Live Updates

ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 167.45 روپے پر پہنچ گیا

انٹربینک میں 5.85 روپے کا اضافہ ‘شرح سود میں کمی ڈالر پر اثراندازہوئی. ماہرین

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات مارچ 12:18

ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 167.45 روپے پر پہنچ گیا
 کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔26 مارچ۔2020ء) پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالر 167.45 روپے کا ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں بیرونی قرضوں میں اربوں روپے کا اضافہ ہوا روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور ڈالر قدر میں اضافہ جاری ہے.کاروباری ہفتے کے چوتھے روز انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں تین روپے 40 پیسے کا اضافہ ہوا جس کے بعد یہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح165روپے پر پہنچ گیا ہے.تاہم ڈالر کا یہ سفر یہیں نہیں تھما بلکہ دوپہر کے بعد روپے کے مقابلے میں ڈالرکی قدر میں اضافہ ساڑھے 5.85 روپے ہونے سے انٹربینک میں ڈالر 167.45 روپے پر پہنچ گیا.

(جاری ہے)

ڈالر آج 9 ماہ بعد اتنی مہنگی سطح پر ٹریڈ ہوا جبکہ انٹر بینک میں امریکی کرنسی کی قدر میں 3 روز کے دوران 8 روپے 45 پیسے کا اضافہ ہوچکا ہے ڈالر کی قدر میں ہوشربا اضافے کے باعث ملک پر قرضوں کے بوجھ میں 600 ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ہے. ماہرین کے مطابق شرح سود میں کمی کے فیصلے کے بعد ڈالر کی خریداری کی جارہی ہے جس کے باعث عارضی طور پر اس کی قیمت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے گزشتہ روز بھی ڈالر کی قیمت میں تین روپے کا اضافہ ہوا تھا.

گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے 93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا.اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگائی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا.جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164 روپے پر پہنچ گیا جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا.اگست 2019 میں روپے نے ڈالر کا جم کر مقابلہ کیا اور ڈالر 157.20 روپے تک پہنچ گیا ستمبر 2019 کے اختتام پر ڈالر کی قیمت میں مزید کمی واقع ہوئی اور یہ 156.40 روپے پر پہنچ گیا.اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی تھی اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی.غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے گھریلو قرضوں اور اسٹاک مارکیٹوں سے قلیل مدتی سرمایہ کاری نکالنے سے روپے کی قدر میں گراوٹ آئی اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد کمی کے باعث سرمایہ کار پاکستان سے اپنا پیسہ نکال رہے ہیں جو ڈالر مہنگا ہونے کا سبب بن رہا ہے.اسٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث غیرملکی سرمایہ کار نقد رقم کو ہاتھ میں رکھنے کے لئے پاکستان سمیت دنیا بھر سے اپنی سرمایہ کاری واپس نکال رہے ہیں.عارف حبیب لمیٹڈ کے ہیڈ آف ریسرچ سمیع اللہ طارق نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق ، پچھلے تین ہفتوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے حکومتی قرضوں کی سیکیورٹیز سے 1.56 بلین ڈالر کی قلیل مدتی سرمایہ کاری واپس لے لی ہے، جس کے نتیجے میں روپیہ پر دباﺅ اس وقت جزوی طور پر بڑھ گیا، تاہم گھبراہٹ میں مبتلا کچھ سرمایہ کاروں نے پختگی ہونے سے پہلے سیکیورٹیز فروخت کردیں.
کرونا وائرس کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات