پاکستان کا بھارت کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر سینئر بھارتی سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج

بھارت کی اشتعال انگزیزی خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے،بھارت ایسی حرکتوں سے مقبوضہ کشمیر سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا،بھارت اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے،اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو ایل او سی کی معائنے کی اجازت دی جائے ، ترجمان دفتر خارجہ

بدھ مئی 22:01

پاکستان کا بھارت کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر سینئر بھارتی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 مئی2020ء) پاکستان نے بھارت کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر سینئر بھارتی سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی اشتعال انگزیزی خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے،بھارت ایسی حرکتوں سے مقبوضہ کشمیر سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا،بھارت اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے،اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو ایل او سی کی معائنے کی اجازت دی جائے ۔

بدھ کو ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہاکہ 19 مئی کو ایل او سی کے نکیال سیکٹر پر بھارتی افواج کی فائرنگ سے تین شہری شدید زخمی ہوئے،ایل او سی پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے 18 سالہ کرم دین،20 سالہ محمد رضوان اور 30 سالہ حافظ الیاس شدید زخمی ہوئے۔

(جاری ہے)

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق رواں برس بھارت اب تک جنگ بندی کی 1101 مرتبہ خلاف ورزیاں کر چکا ہے، بھارتی فورسز ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر مسلسل معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ بھارت کی اشتعال انگزیزی خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے،بھارت ایسی حرکتوں سے مقبوضہ کشمیر سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا،بھارت اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے،شہری آباد کو نشانہ بنانا 2003 کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے ، نہتے شہریوں کو بے گناہ نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کے بھی منافی ہے ، اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو ایل او سی کی معائنے کی اجازت دی جائے ۔