’’جموں و کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس‘‘ کے رہنما کی مقبوضہ کشمیر میں نظر بندی

نذیر گیلانی نے معاملہ بھارت کے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے ساتھ اٹھایا

ہفتہ مئی 14:09

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 مئی2020ء) جموں و کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس (جے کے سی ایچ آر)کے صدر ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے بھارت کے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو لکھے گئے یک خط میں انکے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں اپنی تنظیم کے چیف ایڈمنسٹریٹو افسر کی مسلسل نظر بند نظری کا معاملہ اٹھایا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ جے کے سی ایچ آر مقبوضہ کشمیر شاخ کے چیف ایڈمنسٹریشن آفیسر جنہوں نے کشمیر میں 2014 کے سیلاب کے دوران متاثرین کو امداد کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا ہے 5 اگست 2019 سے کپواڑہ میں واقع اپنے آبائی علاقے میںنظر بند ہیں اور انکے اہلخانہ کو پچھلے تین دن سے دودھ اور سبزیاں میسر نہیں ہیں اور اس دوران وہ سحری میں چائے نہیں پی سکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ان دونوں چیزوں کی عدم فراہمی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کشمیر میں زندگی کو محدود کردیا گیا ہے اور لوگوں کو معیار زندگی سے محروم رکھا گیا ہے۔انہوں نے لکھا کہ مقبوضہ کشمیر کے باہر بھارتی جیلوں میں کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد قید ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بھارتی فوج نفرت اور انتقام کے جذبات سے بھری ہے۔انہوں نے خط میں امید ظاہر کی کہ بھارت کا قومی انسانی حقوق کمیشن مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے ہنگامی کارروائی کرے گا۔

نذیرگیلانی نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ بھارتی حکومت کشمیریوںکو انکاپیدائشی حق،حق خودارادیت دینے کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 15 جنوری 1948 کو کیے گئے اپنے وعدے پر عملدرآمدکرے گی۔ ڈاکٹر نذیر گیلانی نے خط کی ایک کاپی اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق Michelle Bachelet کو بھی ارسال کر دی ہے۔