بلیک باکس اپنے نام کی طرح کالا نہیں ہوتا‘جہازکے اہم ترین پرزے کو یہ نام کیسے ملا؟

طیارہ سازکمپنی ہی بلیک باکس کے ڈیٹا کو ڈی کوڈ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے

Mian Nadeem میاں محمد ندیم ہفتہ مئی 15:02

بلیک باکس اپنے نام کی طرح کالا نہیں ہوتا‘جہازکے اہم ترین پرزے کو یہ ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 مئی۔2020ء) کسی بھی فضائی حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں کے دوران جو پہلا کام کیا جاتا ہے وہ عام طور پر ”بلیک باکس“ کی تلاش ہوتی ہے تاکہ حادثے کی وجوہات کا پتا لگایا جا سکے‘22 مئی کو پی آئی اے کا لاہور سے کراچی جانے والا طیارہ جب لینڈنگ سے چند لمحے قبل آبادی پر گر تباہ ہوا تو امدادی کارروائیوں کے دوران بلیک باکس کی تلاش بھی جاری تھی.

جمعرات کو پاکستان کے وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے تصدیق کی کہ بدقسمت طیارے کا بلیک باکس مل گیا ہے‘اس حادثے میں عملے کے8 ارکان سمیت 97 افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ دو مسافر معجزانہ طور پر اس حادثے میں محفوظ رہے .

(جاری ہے)

حادثے کی ممکنہ وجوہات کے حوالے سے پاکستان میں تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے البتہ ایوی ایشن ماہرین کہتے ہیں کہ طیارے کا بلیک باکس ہی حادثے کی درست وجوہات کے تعین میں مدد دے سکتا ہے.

عالمی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ایئر لائنز پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) کے جوائنٹ سیکرٹری اور ایئر بس اے 320 کے پائلٹ قاسم قادر نے بتایا کہ بلیک باکس اپنے نام کی طرح کالا نہیں ہوتا لیکن یہ دو حصوں، ڈیجیٹل فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (ڈی ایف ڈی آر) اور کاک پٹ وائس ریکارڈ (سی وی آر) پر مشتمل ہوتا ہے. سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر عابد راﺅ نے بتایا کہ پہلے یہ ریکارڈنگ اور ڈیٹا صرف آخری 30 منٹ کی پرواز تک محدود ہوا کرتا تھا‘لیکن وقت کے ساتھ اس میں بہتری آئی اور اب اس میں زیادہ طویل ریکارڈنگز موجود ہوتی ہیں لہذٰا یہ حادثے کی وجوہات جاننے میں مدد دیتا ہے‘عابد راﺅ کا کہنا ہے کہ ڈی ایف ڈی آر اور سی وی آر کی مدد سے ماہرین ایک طرح سے پرواز کے دوران ہر گفتگو اور پائلٹس کے ہر اقدام کا ازسر نو جائزہ لیتے ہیں اس مقصد کے لیے زیادہ سے زیادہ تیکنیکی تفصیلات درکار ہوتی ہیں جو بلیک باکس فراہم کرتا ہے.

کیپٹن قاسم کے مطابق فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر میں اس پرواز کی تمام تیکنیکی سرگرمیوں کا مکمل ریکارڈ ہوتا ہے یعنی کس موقع پر انجن تھرسٹ کی پوزیشن کیا تھی؟ لینڈنگ گیئر کے استعمال، جہاز کے فلیپس اوپر نیچے کیے جانے تک کی تفصیلات اسی ڈیٹا کا حصہ ہوتی ہیں. لیکن یہ تمام معلومات کوڈ کی شکل میں موجود ہوتی ہیں جن کو ڈی کوڈ کرنا پڑتا ہے انہوں نے بتایا کہ کیوں کہ ایئر بس کے ساتھ حادثہ پیش آیا ہے تو اسے بنانے والی کمپنی ہی اس کوڈ کو ڈی کوڈ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے‘ماہرین کا کہنا ہے کہ کاک پٹ وائس ریکاڈر میں اس گفتگو کی عام ریکارڈنگ ہوتی ہے جو کاک پٹ میں پایلٹس کے درمیان ہوتی ہے یا پھر جو ایئر ٹریفک کنٹرول روم سے کی جا رہی ہوتی ہے.

کیپٹن قاسم قادر کا کہنا تھا کہ یہ معلومات بہت اہم ہوتی ہیں کیوں کہ ان سے نہ صرف حادثے سے پہلے کی صورتِ حال کا پتا چلتا ہے بلکہ اس گفتگو میں طیارے کو اس سے قبل پیش آنے والے تیکنیکی مسائل کی بھی تفصیل ہوتی ہے جو تحقیقات میں مددگار ہوتی ہے‘سی وی آر ہو یا ڈی ایف ڈی آر، دونوں کی مدد سے ماہرین ان وجوہات کا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کی وجہ سے حادثہ پیش آتا ہے.

کیپٹن قاسم قادر کے مطابق ان معلومات کو اکٹھا کرنے کا مقصد ہرگز کسی پر الزامات لگانا یا حادثے کا ذمہ دار ٹھیرانا نہیں ہوتا بلکہ ان کی مدد سے اس مخصوص طیارے کی تیاری میں ممکنہ نقص اس میں کسی فنی خرابی کو دور کرنا اور پائلٹس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہوتا ہے‘بلیک باکس تباہ کیوں نہیں ہوتا؟یہ ایک عام سوال ہے جو اکثر افراد کرتے ہیں کہ اتنی تباہی اور سینکڑوں جانوں کے ضائع ہو جانے کے بعد بھی صرف یہی معلومات کیسے محفوظ رہتی ہیں؟اس کے جواب میں کیپٹن قاسم نے بتایا کہ اس باکس کی ساخت جہاز سے بالکل مختلف ہوتی ہے یہ آگ اور شدید دباﺅ کو سہنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘لیکن طیارہ زیادہ بلندی سے زمین پر گرا ہو تو معلومات ضائع ہونے کا بھی خدشہ ہوتا ہے پی آئی اے کا طیارہ کیوں کہ نچلی پرواز کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا تو غالب امکان ہے کہ تمام ڈیٹا محفوظ ہو گا.

کیپٹن قاسم نے بتایا کہ ماضی میں ایسے کئی حادثے پیش آ چکے ہیں جن میں بلیک باکس نہیں مل سکا اس لیے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ پرزہ ہمیشہ ہی مل جاتا ہے. کیپٹن قاسم نے بتایاکہ جہاز کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد اس بلیک باکس کے مقابلے میں کئی درجے کم وزنی ہوتا ہے لہذٰا کسی طور بھی اس کی بناوٹ میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی ورنہ طیارہ پرواز ہی نہیں بھر سکے گا‘عابد راﺅ کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ طیارہ سازی میں جدت آ رہی ہے 1950ءاور 1960ءکی دہائی میں جہازوں کے پر آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ وزنی اور ناپائیدار ہوتے تھے جبکہ آج کل طیارہ ساز کمپنیاں ایسا میٹریل استعمال کرتی ہیں جو مضبوطی کے ساتھ ساتھ ہلکا بھی ہوتا ہے، لہذٰا بلیک باکس کی طرز پر جہاز کی باڈی نہیں بنائی جا سکتی.

خیال رہے کہ پی آئی اے طیارے کا بلیک باکس لینے اور جائے حادثہ کا معائنہ کرنے ایئر بس کی ٹیم بھی فرانس سے کراچی آئی تھی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیک باکس کے ذریعے معلومات کی فراہمی میں کئی ماہ کا وقت لگ سکتا ہے.