Live Updates

بجٹ میں سگریٹ، سگاراورالیکٹرانکس اشیاء پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ

درآمدی سگریٹ، سگارز، بیٹری اور الیکٹرانکس اشیاء پر ایف ای ڈی میں اضافہ کیا گیا، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی65 فیصد سے بڑھا کر100فیصد کردی گئی

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ جون 17:58

بجٹ میں سگریٹ، سگاراورالیکٹرانکس اشیاء پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 جون 2020ء) آئندہ مالی سال میں سگریٹ، سگار اور الیکٹرانکس اشیاء پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کردیا گیا، درآمدی سگریٹ، سگارز اور بیٹری پر ایف ای ڈی میں اضافہ کیا گیا ہے، ایکسائز ڈیوٹی65 فیصد سے بڑھا کر100 فیصد کردی گئی ہے۔ اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ جہاں پر آئندہ مالی سال کیلئے 7294 ارب کے حجم کا وفاقی بجٹ 2020-21ء قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا، وفاقی بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

وفاقی وزیر تجارت حماد اظہر نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ ماضی میں ملکی قرض 31ہزار ارب تک پہنچ چکا تھا، پاکستانی روپے کی قدر کو مصنوعی طریقے سے بلند سطح پر رکھا گیا، جس سے ایکسپورٹ میں کمی اور امپورٹ میں اضافہ ہوا۔

(جاری ہے)

18ارب ڈالر سے کم ہوکر 10ارب ڈالر سے کم رہ گئے تھے، ملک دیوالیہ ہونے قریب تھا۔ بجٹ خسارہ 2300ارب کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا، بجلی کا گردشی قرضہ 485 ارب کی ادائیگی کے باجود 1200ارب تک پہنچ چکا تھا۔

سرکاری اداروں کی تعمیر نو نہ ہونے سے 1300ارب کا نقصان ہوا۔منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے تھے۔ ہم نے 2019-20ء کا آغاز معیشت کی بہتری کے اہداف کو دیکھ کرکیا جس سے معیشت کو استحکام ملا۔رواں مالی سال میں جاری کھاتوں کا خسارہ 20ارب ڈالر تھا جو73 فیصد کم کیا، جو 10ارب ڈالر سے کم ہوکر 3ارب ڈالر رہ گیا۔تجارتی خسارے میں 31فیصد کمی کی گئی۔

جو21ارب ڈالر سے کم ہوکر15ارب ڈالر رہ گیا۔اس مالی سال میں ایف بی آر کے ریونیو میں17فیصد اضافہ ہوا۔آئندہ مالی سال میں 16سو ارب کا ریونیو حاصل کریں گے۔حکومت نے6ارب ڈالر بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی۔جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں4ارب ڈالر تھی۔ہم نے اپنے دور میں ماضی کی حکومتوں کے قرضوں پر5000ارب سود ادا کیا۔10لاکھ پاکستانیوں کیلئے بیرونی ملک ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے۔

ترسیلات زر میں اضافہ ہوا۔ سرمایہ کاری دوگنا ہوگئی، جو کہ 2.15فیصد ہوگئی۔74فیصد اندرونی قرضوں کو طویل قرضوں کی ادائیگی میں تبدیل کیا۔ہمارے اصلاحاتی پروگرام کو سراہتے ہوئے آئی ایم ایف نے6ارب ڈالر مزید توسیع فنڈ کی منظوری دی۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں معاشرے کے کمزور طبقات کیلئے احساس پروگرام اور آئی ایم ایف پروگرام کو جاری رکھنا، ترقیاتی بجٹ کو مناسب سطح پر رکھا گیا ہے۔

کل ریونیو کا تخمینہ 6573ارب روپے ہے، ایف بی آرریونیو4963ارب روپے ہے۔نان ریونیوایک ہزار610ارب روپے ہے۔ این ایف سی کے تحت صوبو ں کو 2874ارب کا ریونیو صوبوں کو ٹرانسفر کیا جائے گا۔ نیٹ وفاقی ریونیو کا تخمینہ 3700ارب ہے۔ کل اخراجات کا تخمینہ 7137ارب روپے لگایا گیا ہے۔ بجٹ خسارہ 4337ارب رہنے کی توقع ہے۔ احساس پروگرام میں 208ارب کردیا گیا ہے، اس میں سماجی تحفظ کے بہت پروگرام شامل ہیں۔

سماجی شعبے کے لئے 250 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ توانائی، خوراک کیلئے سبسڈی 180ارب مختص کی گئی، ایچ ای سی کی رقم بڑھا 64ارب کردی، ترسیلات زر کو بہتر بنانے کیلئے 25ارب، ریلوے کیلئے 40ارب، مواصلات کے دیگرمنصوبوں کیلیے37 ارب رکھے گئے ہیں۔ کامیاب نوجوان پروگرام 2ارب ، وفاقی ہسپتال13ارب، ای گورننس کیلئے ایک ارب مختص کی گئی۔فنکاروں کی مالی امداد کیلئے ایک ارب کردی ہے ، خصوصی فنڈ کا قیام کیا گیا، زرعی شعبے کو ریلیف دینے اور ٹڈی دل کیلئے 10ارب رکھے گئے۔

دفاع کیلئے 12 کھرب 89 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ افواج پاکستان کے شکر گزار ہیں کہ حکومت کی کفایت شعاری پالیسی میں شامل ہوئے۔ لاہور وفاق اور کراچی کے اسپتالوں کیلئے 13 ارب مختص کیے گئے۔ ایف بی آر کی وصولیوں کا ہدف کم کرکے 3900 مقرر کردیا ہے۔ کے پی کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 48 ارب روپے مختص کیے  ہیں۔ مہنگائی کو 9.1سے کم کرکے 6.5فیصد پر لائی جائے گی۔

کورونا وائرس اور دیگر آفات کے روک تھام کیلئے 70ارب مختص کیے۔ تعلیمی شعبے کی جدت بہتری کیلئے 30ارب اور اصلاحاتی پروگرا م کیلئے 5ارب کی رقم مختص کی گئی ہے۔ حکومت نے بجٹ میں شناختی کارڈ دکھانے کیلئے خریداری کی حد کی شرط بڑھا دی۔ 50 ہزار کی خریداری کی بجائے ایک لاکھ کی خریداری پر شناختی کارڈ دکھانا ہوگا۔ حکومت میں بجٹ میں الیکٹرانکس اور سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے، درآمدی سگریٹ، سگارز اور بیٹری پرایف ای ڈی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

ایکسائز ڈیوٹی 65 فیصد سے بڑھا کر100فیصد کردی گئی ہے۔ سیمنٹ کی پیداوار میں ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز ہے۔ سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کم کردی گئی ہے۔ سیمنٹ پر ایف ای ڈی 2روپے کم کرکے پونے 2 روپے کردی گئی ہے۔ انرجی ڈرنکس پر ایکسائز ڈیوٹی 13فیصد سے بڑھا کر25 فیصد کردی گئی ہے۔اطلاق مقامی اور درآمدی دونوں انرجی ڈرنکس پر ہوگا۔ ڈبل کیبن پک اپ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے۔

ڈبل کیبن کا استعمال خوشحال طبقہ کرتا ہے۔ بھاری فیسیں لینے والے تعلیمی اداروں پر100فیصد سے زائد ٹیکس عائد کردیا گیا۔ اسکولوں کی سالانہ 2 لاکھ سے زائد فیس پر100فیصد ٹیکس لینے کی تجویز ہے۔ ٹیکس دہندگان کیلئے اسکولوں فیس پر ٹیکس کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ ٹیکس ناہندگان کیلئے اسکول فیس پر ٹیکس کی شرط برقرار ہے۔ پاکستان میں موبائل فون بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

پاکستان میں بنائے جانے والے موبائل فون کے سیلز ٹیکس میں کمی کی تجویز ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں قومی ترقیاتی بجٹ 1324ارب جبکہ وفاقی ترقیاتی بجٹ 650 ارب اور صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 674 ارب رکھنے کی تجویز ہے،آئندہ مالی سال جی ڈی پی گروتھ کا ہدف2.1 فیصد رکھنے کی تجویز ہے، آئندہ مالی سال میں افراط زر کو 6.5 فیصد تک لانے کی تجویزدی گئی ہے۔

زرعی شعبے کی شرح نمو2.8 فیصد، تعمیراتی شعبے کی گروتھ کا ہدف 3.4 فیصد، بڑی صنعتوں کی گروتھ کا ہدف منفی 2.5 فیصد، خدمات کی شعبے کا ہدف2.6 فیصد، بجلی پیداواراور گیس کی تقسیم کے شعبے کی گروتھ کا ہدف1.4فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔ قومی وزارت صحت کیلئے14ارب 58کروڑ، نیشنل فوڈ سکیورٹی کے منصوبوں کیلئے12ارب،آبی وسائل کیلئے 70 ارب، ایوی ایشن کیلئے ایک ارب 32کروڑ روپے، کابینہ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 47ارب 52کروڑ ، وزارت موسمیاتی تبدیلی کیلئے5 ارب، دفاعی پیداوار ڈویژن کیلئے ایک ارب57کروڑ،وفاقی تعلیم وتربیت کیلئے 4ارب53 کروڑ،وزارت ہاؤسنگ کیلئے 8ارب 93کروڑ روپے رکھنے کی تجویزہے۔
وفاقی بجٹ2020-21ء سے متعلق تازہ ترین معلومات