انوسٹی گیشن پولیس لیاقت آباد نے دو ہفتے قبل14سالہ معصوم بچے کے اندھے قتل و ڈکیتی کی واردات کا معمہ حل کر لیا

مدعی مقدمہ سگا خالو ہی قاتل نکلا، ملزم نے دومرلے کا مکان ہتھیانے کیلئے بچے کو قتل کرنے کے بعد ڈکیتی کا رنگ دینے کیلئے گھر میں لوٹ مار بھی کی

بدھ جولائی 13:46

انوسٹی گیشن پولیس لیاقت آباد نے دو ہفتے قبل14سالہ معصوم بچے کے اندھے ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 جولائی2020ء) انوسٹی گیشن پولیس لیاقت آباد نے دو ہفتے قبل14سالہ معصوم بچے کے اندھے قتل و ڈکیتی کی واردات کا معمہ حل کر لیا ، مدعی مقدمہ سگا خالو ہی قاتل نکلا، بچے نبیل کے قتل کی واردات میں ملوث3ملزمان سگے خالوعبدالقیوم اور قریبی رشتہ دار طیب اور سلمان کو گرفتار کر لیا گیا ۔ پولیس کے مطابق ملزم عبدالقیوم نی2مرلے کا گھر ہتھیانے کے لئے اپنی سالی کے بیٹے نبیل کوقتل کرنے کا منصوبہ بنایا،ملزم عبدالقیوم نے لالچ دے کر اپنے دوقریبی رشتہ دار ساتھیوں طیب اور سلمان کو بھی ساتھ ملا لیا۔

مقتول نبیل کا والد مالی اور والدہ گھروں میں کام کرتی ہے اور بچے دن بھر گھر میں اکیلے ہوتے تھے۔ملزمان طوطے خریدنے کے بہانے مقتول نبیل کے گھر آئے اوراس کی 8 سالہ بہن نور فاطمہ کو چیز لینے باہر بھیج دیا۔

(جاری ہے)

ملزمان نے بچے کو چھریوں کے وار کر کے قتل کیا اور اسے ڈکیتی کا رنگ دینے کے لیے گھرمیں لوٹ مار کرکے فرار ہوگئے۔ بعد ازاں ملزم عبدالقیوم چالاکی سے خود ہی مقدمہ کا مدعی بن گیا اورپولیس سے قاتلوں کی فوری گرفتار ی کا مطالبہ کرتا رہا۔ ملزمان کی نشاندہی پر آلہ قتل چھری، پسٹل اور مسروقہ 2لاکھ روپے نقدی،چیک بک،پاسپورٹ، شناختی کارڈ و پیچ کس برآمد کر لئے گئے۔انویسٹی گیشن پولیس لیاقت آباد نے ملزمان کو پیشہ وارانہ مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیا۔