میر شکیل الرحمن کی ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد کرنے کا تحریری حکم جاری

ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ میر شکیل نے کرپشن، بد یانتی اور غیر قانونی ذرائع سے ایگزمپشن پر پلاٹ حاصل کئے میر شکیل نے غیر قانونی پلاٹ حاصل کرکے نیب کے آرڈینس کی دفعہ 9 کے تحت جرم کا ارتکاب کیا،نیب کے الزامات کے جواب میں رقم جمع کروانے کا ثبوت نہ دینا ملزم میر شکیل کا جرم سے مضبوط گٹھ جوڑ ثابت کرتا ہے

جمعہ جولائی 17:48

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 جولائی2020ء) لاہور ہائیکورٹ نے میر شکیل الرحمن کی ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد کرنے کا تحریری حکم جاری کر دیا۔جسٹس سردار احمد نعیم اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل بنچ نے 19 صفحات کا تحریری حکم جاری کیا۔تحریری حکم نامے میں کہاگیا ہے کہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ میر شکیل نے کرپشن، بد یانتی اور غیر قانونی ذرائع سے ایگزمپشن پر پلاٹ حاصل کئے۔

میر شکیل نے شریک ملزمان میاں نواز شریف، ہمایوں فیض رسول اور میاں بشیر کی ملی بھگت سے غیر قانونی پلاٹ حاصل کئے۔میر شکیل نے کرپشن ، بد یانتی غیر قانونی ذرائع سے حاصل پلاٹوں میں دو سڑکوں کو بھی غیر قانونی طور پر شامل کیا۔میر شکیل نے غیر قانونی پلاٹ حاصل کرکے نیب کے آرڈینس کی دفعہ 9 کے تحت جرم کا ارتکاب کیا۔

(جاری ہے)

وائٹ کالر کرائمز کیسز میں جرم مکمل کرنے کے بعد دستاویزات تیار کی جاتی ہیں۔

وائٹ کالر کرائمز میں چند تکنیکی یا اندرونی معلومات کی بنیاد پر ہی ایسے جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔وائٹ کالر کرائمز میں اخلاقیات کو مد نظر نہیں رکھا جاتا ، ایسے جرائم پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔میر شکیل نے دوران تفتیش نیب کے 143 ملین روپے کے نقصان پہنچانے کے الزام کے جواب میں جمع کروائی گئی رقم کا ریکارڈ بھی پیش نہیں کیا۔نیب کے الزامات کے جواب میں رقم جمع کروانے کا ثبوت نہ دینا میر شکیل کا جرم سے مضبوط گٹھ جوڑ ثابت کرتا ہے۔

سپریم کورٹ کے امتیاز بنام سرکار اور ڈاکٹر مبشر حسن کیسز میں پاکستان میں جاری کرپشن پر سخت آبززویشنز دی گئی ہیں۔وائٹ کالر کرائمز میں ملوث ملزموں کو ضمانت کی سطح پر بھی کسی قسم کی رعایت نہیں دینی چاہئے۔کرپشن کیسز میں ایسے ملزموں کو ملزموں کو رعایت دینے سے بڑھتے ہوئے کرپشن کے کینسر کو ختم کرنا ناممکن ہو گا۔میر شکیل کے وکیل کے دلائل میں دیئے گئے کیسز کے حوالے موجودہ کیس کے حالات و واقعات پر پورا نہیں اترتے،ملزم نے جوہر ٹان میں زمین پر عبوری تعمیر کی درخواست دی تھی مگر میر شکیل کو ایگزمپشن پر پلاٹ الاٹ کر دیئے گئے۔

میر شکیل نے پلاٹوں کی ایگزمپشن کی شرائط پر رضا مندی ظاہر کی اور شریک ملزموں نے اس کی سمری تیار کی،شریک ملزموں نے پلاٹوں میں دو سڑکیں بھی شامل کیں اور اسی روز 11 جولائی 1986 کو سمری اس وقت کے وزیر اعلی نواز شریف کو پیش بھی کر دی۔ڈائریکٹر لینڈ میاں بشیر احمد نے 59 کنال 3 مرلے 75 فٹ اراضی میر شکیل کو الاٹ کرنے کی سمری تیار کی، اس وقت کے وزیر اعلی میاں نواز شریف نے 56 کنال الاٹمنٹ کی منظوری دی۔

میر شکیل کو 3کنال مزید زمین الاٹ کرکے مزید غیر قانونی کام کیا گیا۔ڈی جی ایل ڈی کے ہمایوں فیض رسول نے میر شکیل کو زمین الاٹ کرنے کی منظوری دی اور کہا کہ اس رعایت کو مثال نہ بنایا جائے،یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ میر شکیل نے زمین کی مارکیٹ ویلیو کے تحت قیمت آج تک ادا نہیں کی۔ملزم میر شکیل تقریبا60 کنال اراضی پر صرف ریزرو پرائس ادا کرنے کے بعد قابض ہے۔

میر شکیل کو جوہر ٹان میں 54 پلاٹ ایک بلاک کی شکل میں الاٹ کرنے کا اقدام بھی بدنیتی پر مبنی تھا۔میر شکیل کو بشمول 2 سڑکوں کے ایک بلاک کی شکل میں پلاٹ الاٹ کر کے ملزم کو فائدہ پہنچایا گیا۔انتہائی سستے داموں پلاٹ حاصل کرنے کا فائدہ صرف میر شکیل کو ہوا ۔میر شکیل کے پلاٹوں میں 2 سڑکیں شامل کر کے عوام الناس کو سڑک کے استعمال سے محروم کیا گیا۔ میر شکیل کو ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست بے بنیاد قرار دے کر مسترد کی جاتی ہے۔