مقبوضہ کشمیر میں عیدا لاضحی انتہائی مغموم اور مظلومانہ انداز میں منائی گئی،سڑکیں ویران اور بڑی جامع مساجد اور درگاہیں بند رہیں،ھاری تعداد میں مسلح بھارتی فورسز اورپولیس اہلکاروں کا گشت

بھارتی فوجیوں نے جولائی کے دوران 24کشمیریوں کو شہید کیا

ہفتہ اگست 17:55

سرینگر۔ یکم اگست (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 اگست2020ء) مقبوضہ کشمیر میں عیدالاضحی انتہائی مغموم اورمظلومانہ انداز میں منائی گئی کیونکہ قابض حکا م کی طرف سے عائد کی گئی پابندیوں کے باعث علاقے کے طول وعرض میں سڑکیں ویران اور بڑی جامع مساجد اور درگاہیں بند تھیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سرینگر شہر اوردیگر بڑے قصبہ جات عوام کے لئے بند کردیے گئے تھے اورسڑکوں ،بازاروں اور حساس تنصیبات پربھاری تعداد میں مسلح بھارتی فورسز اورپولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے علاوہ چوراہوں پر رکاوٹیں اور خاردارتاروں لگائی گئی تھیں۔

پولیس اہلکاروں نے صبح سویرے لائوڈ سپیکروں پر اعلانات کرتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ وہ نماز عید کے لئے جمع نہ ہوں۔ یہ تمام غیر ضروری اقدامات کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے نام پر کیے گئے تھے۔

(جاری ہے)

تاہم ان کا اصل مقصد لوگوں کو سزا دینا اور انہیں نماز عیدکی ادائیگی اور بھارت مخالف مظاہروں سے روکنا تھا۔ ان غیر معمولی پابندیوں کی وجہ سے کشمیری عوام نے زیادہ تر انفرادی طورپر یاصرف اہلخانہ پر مشتمل چھوٹے چھوٹے گروپوں میں نمازعید گھروں میں ادا کرنے کو ترجیح دی۔

ادھر کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ماہ جولائی میں ریاستی دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں کے دوران 24 کشمیریوں کو شہید کردیا۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اس عرصے کے دوران بھارتی فوجیوںنے نہتے عوام پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کرکے کم از کم59 افراد کو زخمی کردیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوجیوں نے محاصروں اورتلاشی کی 400 سے زائد کارروائیوں کے دوران سینئر حریت رہنمائوں محمد اشرف صحرائی، فاروق احمد توحیدی اور امیر حمزہ سمیت 98 افراد کو گرفتار کیا جبکہ 7 خواتین کی بے حرمتی کی۔ اس کے علاوہ اس ماہ کے دوران 11 رہائشی مکانات اور دیگر عمارات کو تباہ کیا گیا اور متعدد گھروں کو لوٹ لیا گیا۔مقبوضہ کشمیر میں قابض حکام نے ایک ماہ سے تھوڑاسا زیادہ عرصے میں چار لاکھ سے زائد ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے۔

کشمیری عوام کی اکثریت کویقین ہے کہ ان میں سے زیادہ تر سندیں غیر مقامی ہندوؤں کو جاری کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب مقامی لوگوں کی سندیں جاری کرنی ہوتی ہیں تو قابض حکام تاخیر کر تے ہیں جبکہ غیر مقامی درخواست دہندگان کے لئے یہ عمل دو دن کے اندر مکمل کیاجارہا ہے۔ یہ امرقابل ذکر ہے کہ علاقے میں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا عمل رواں سال 27 جون کو شروع ہوا تھا۔