’عمران خان کی حکومت کے حالات اتنے برے نہیں کہ اسے ختم کیا جائے‘

اگر کوئی حکومت ڈلیور نہیں کر رہی تو آئین میں طریقہ کار موجود ہے ، اپوزیشن لوگوں کو سڑکوں پرنہیں نکال سکتی ، تجزیہ کار عمران یعقوب خان

Sajid Ali ساجد علی پیر ستمبر 10:21

’عمران خان کی حکومت کے حالات اتنے برے نہیں کہ اسے ختم کیا جائے‘
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 ستمبر2020ء) عمران خان کی حکومت کے حالات اتنے برے نہیں ہیں کہ اسے ختم کیا جائے ، اورنہ ہی اپوزیشن لوگوں کو سڑکوں پرنکال سکتی ہے ، ان خیالات کا اظہار تجزیہ کار عمران یعقوب خان نے کیا ۔ نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو میں انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری طریقے سے کسی بھی حکومت کو ختم کرنا انتہائی نا مناسب ہے ، لیکن اگر کوئی حکومت ڈلیور نہیں کر رہی تو آئین میں طریقہ کار موجود ہے کہ اپوزیشن حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں لائے اور حکومت کو ختم کر دے ، لیکن عمران خان حکومت کے اتنے برے حالات نہیں کہ اسے ختم کیا جائے ،اورنہ اپوزیشن لوگوں کو سڑکوں پرنکال سکتی ہے۔

یاد رہے کہ متحدہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس نے وزیراعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا ، اور اعلان کیا کہ استعفیٰ نہ دیا تو جنوری میں لانگ مارچ کیا جائے گا ، جس میں نئے شفاف آزادانہ انتخابات کا مطالبہ کیا جائے گا ۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق متحدہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس نے اپوزیشن اتحاد کو پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کا نام دے دیا ، پاکستان ڈیموکریٹک الائنس نے وزیراعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ، اے پی سی میں حکومت مخالف تحریک پر بھی متفقہ فیصلہ کرلیا گیا ہے ، رواں سال اکتوبر سے حکومت مخالف تحریک شروع کی جائے گی ، ملک بھر میں حکومت مخالف احتجاج اور عوامی ریلیاں نکالی جائیں گی ، حکومت کو جنوری تک وقت دیا جائے گا ، اس عرصے میں ملک میں نئے آزاد اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا جائے گا ، تحریک عدم اعتماد اور اسمبلیوں سے مستعفی ہونا بھی آپشن شامل ہوگا ، حکومت کی جانب سے نئے انتخابات نہ کروانے پر دھرنا یا مارچ شروع کیا جائے گا ، حکومت کے خلاف بتدریج پارلیمنٹ کے اندر اور باہر نئے انتخابات کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالیں گے ، تاہم اسمبلیوں سے استعفے آخری آپشن ہوگا ۔