یکساں نصاب کے حوالے سے حکومتی کوششوں کو سراہتے ہیں، ڈاکٹر محمد ناصر

بدھ ستمبر 15:55

پشاور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 ستمبر2020ء) شوریٰ ہمدرد پشاور کا ماہانہ اجلاس گزشتہ روز گرینز ہوٹل پشاور صدر میں منعقد ہواجس کا موضوع’’واحد قومی نصاب ‘ خدشات اور توقعات‘‘ تھا۔ اجلاس کی صدارت اسپیکر شوریٰ ہمدرد پروفیسر ڈاکٹر فخر الاسلام نے کی جبکہ مہمان مقررپرنسپل ہائر سیکنڈری سکول رسالپور کینٹ اور سیکرٹری تنظیم اساتذہ خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد ناصر تھے۔

ڈاکٹر محمد ناصر نے مذکورہ موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں عام طور پر جسمانی، اخلاقی، سماجی ،ادبی ،نفسیاتی ،دینی ،فنی، تکنیکی ،تخلیقی اور قواعد و ضوابط کے مواد کے مجموعے کو نصاب کہا جا سکتا ہے، تعلیمی ماہرین اور دانشور قوم کی انفرادی، اخلاقی، معاشرتی، معاشی ،قومی اور بین الاقوامی ضروریات کا جائزہ لے کر مواد اور مضامین کا انتخاب کرتے ہیں ، موجودہ طور پر گورنمنٹ سکولز، عام پرائیویٹ سکولز، خاص پرائیویٹ سکولز اور دینی مدارس پر مشتمل چار قسم کے نصابات ہمارے ملک میں رائج ہیں ، مختلف نصابات کی وجہ سے قوم کم از کم چار مختلف قسم کی سوچ و فکر کی حامل ہے، اس کی وجہ سے کہیں بھی قومی یکجہتی اور ایک سوچ نہیں دیکھی جا سکتی جو ایک خطرناک ترین صورتحال ہے۔

(جاری ہے)

اُنہوں نے کہا موجودہ حکومت کی جانب سے یکساں نصاب کے لئے کوششوں کو سراہتے ہیں اور تمام سرکاری، عام اور خاص نجی سکولز میں اسے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر اقبال خلیل، سید مشتاق حسین شاہ بخاری، سردار فاروق احمد جان بابر، پروفیسر روشن خٹک، ملک لیاقت علی تبسم، محترمہ غزالہ یوسف اور خیر الله حواری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ 70،72 سالوں میں ہم اپنی تعلیمی پالیسی مرتب نہیں کر سکے حالانکہ کسی بھی قوم کی ترقی کا پہلا زینہ تعلیم ہی ہوا کرتا ہے‘ پہلی بار حکومت وقت کو یہ احساس ہوا کہ ہم نے اپنی نظریاتی اساس اور معاشی و معاشرتی ضروریات کے مطابق اپنے نصاب تعلیم کو مرتب کرنا ہے ہم اُمید کرتے ہیں کہ اس نصاب تعلیم کا ذریعہ میڈیم اردو یعنی ہماری قومی زبان ہونا چاہئیے جس کا فیصلہ قائداعظم محمد علی جناح نے کیا اور اُسے ہمارے آئین نے توثیق دی اور سپریم کورٹ نے 2015 میں نفاذ اردو کے حق میں اپنا فیصلہ صادر کیا۔