’’حقوق کراچی مارچ ‘‘ : موضوعاتی مشاعرے کا انعقاد ، اہل ادب کا اظہار یکجہتی

صدارت انور شعور نے کی ، مہمان خصوصی حافظ نعیم الرحمن ، شعراء نے سانحہ بلدیہ فیکٹری اور ان کے متاثرین کو بھی موضوع بنایا شعراء ادیب و دانشور معاشرے کا دماغ ہوتے ہیں ، عوامی مسائل کے حل کی جدو جہد کا حصہ بنیں ، حافظ نعیم الرحمن کا اظہار خیال

ہفتہ ستمبر 01:23

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 ستمبر2020ء) 27ستمبرکو شاہراہ قائدین پر ہونے والے جماعت اسلامی کراچی کے تحت ’’حقوق کراچی مارچ‘‘ اور حقوق کراچی تحریک سے اظہار یکجہتی کے لیے ادارہ تعمیر ادب کے تحت ادارہ نور حق میں موضوعاتی مشاعرہ منعقد کیا گیا ۔ جس کی صدارت انور شعور نے کی جبکہ مہمان خصوصی امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن تھے ۔

مشاعرے میں شہر کے معروف شعراء کرام نے موضوع کے حوالے سے اپنا کلام پیش کیا اور شہر قائد کے باسیوں کو درپیش مشکلات و پریشانیوں گھمبیر مسائل اور اہل اقتدار اور ارباب اختیار کی جانب سے عدم توجہی اور ناروا سلوک پر اہل ادب کے احساسات و جذبات کا بھر پور اظہار کیا گیا ۔ مشاعرے میں ادارہ تعمیر ادب کے صدر نوید علی بیگ نے تمام شعراء کرام اور شرکاء کی آمد کا خیر مقدم کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

(جاری ہے)

مشاعرے میں کراچی کے مسائل ، کوٹہ سسٹم ، سرکاری نوکریوں پر پابندی ، جعلی مردم شماری ،کراچی کے مسائل میں حکومت کے عدم دلچسپی کے علاوہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کے متاثرین اور لواحقین کے غم اور تشویش کو بھی موضوع بنایا گیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ شعراء کرام ، ادیب ،اور دانشور کسی بھی معاشرے اور قوم کا دماغ ہوتے ہیں ۔

جن تحریکوں اور جدو جہد میں اہل علم وادب بھی شامل ہوں وہ ضرور کامیاب ہو تی ہیں ۔ کراچی جن مسائل سے دوچار ہے وہ چند دنوں میں سامنے نہیں آئے بلکہ اہل اقتدار اور حکمران جماعتوں کی طویل نا اہلی اور اصل مسائل اور حقیقی ایشوز کو مسلسل نظر انداز کرنے اور اہل کراچی کے ساتھ روا رکھی جانے والی نا انصافیوں کے باعث یہ سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔

کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر اور اقتصادی و نظریاتی شہ رگ ہونے کے باوجود آج بھی سوالی اور فریادی بنا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ با اختیار شہری حکومت ، درست مردم شماری ، کوٹہ سسٹم ، نوجوانوں کی تعلیم اور روزگار اور شہریوں کی بنیادی ضروریات اہم اور سلگتے مسائل ہیں ۔ ہماری حقوق کراچی تحریک اور 27ستمبر کے مارچ کا مقصد اہل کراچی کی اسی آواز کو ارباب اختیار تک پہنچانا ہے ۔

کراچی پر اپنا حق جتانے اور نمائندگی کرنے کے دعویداروں نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی ہے ۔ جن کے پاس جتنا زیادہ اختیار تھا ان لوگوں نے اتنی ہی زیادہ تباہی اور بربادی پھیلائی ۔ ہم اہل فکر و نظر ، دانشور ، صحافیوں ، شعراء ادیب اور ہر طبقے اور مکتب فکر سے وابستہ افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری کراچی کی حقیقی آواز اور مسائل کے حل کی تحریک اور جدو جہد کا حصہ بنیں ۔

حقوق کراچی مارچ کے حوالے سے موضوعاتی مشاعرے میں اجمل سراج ، خالد معین ، ریحانہ روحی ، ڈاکٹر آفتاب مضطر، فیاض علی فیاض ، رونق حیات ، اختر سعیدی ، قیصر وجدی ، ڈاکٹر نزہت عباسی ، حجاب عباسی ، سحر تاب رومانی ، ڈاکٹر نثار احمد ، احمد سعید ، عابد حنیف ، کامران نفیس ، نجیب ایوبی، احمد جہانگیر ، سیمان نوید ، سلمان ثروت ، نعیم سمیر ، عباس ممتاز، ضیاء شاہد، عبد المجید محور ، یاسر سعید ، شائق شہاب ، سخاوت علی نادر،چاند علی ، زاہد عباس ، نعیم الدین نعیم ، محمود غازی ، عطاء محمد تبسم ، طالب رشید سمیت دیگر شعراء نے اپنا کلام پیش کیا جبکہ نظامت کے فرائض عبد الرحمن مومن نے انجام دیئے ۔