کراچی، ڈائویونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیراہتمام ورلڈ ہارٹ ڈے واک کا اہتمام

دنیا بھر میں سالانہ 2.5کروڑ افرا د دل کے امراض کا شکار ہو کر مرتے ہیں، پاکستان میں سالانہ 4سے 5لاکھ افراد دل کی بیماریوں میں مبتلا ہوکر موت کا شکار ہوجاتے ہیں،ماہرین صحت

منگل ستمبر 20:27

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 29 ستمبر2020ء) ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیرِ اہتمام ورلڈ ہارٹ ڈے کے موقع پر منعقد ہونے والی واک میں ماہرینِ صحت نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں دل کے امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں، پوری دنیا میں سالانہ 2.5کروڑ افرا د ان امراض کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ لیکن ترقی یافتہ ممالک میں متوازن غذا اور ورزش کے اہتمام سے اس مرض سے ہونے والی اموات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں لوگ صحت کا خیال رکھنے کے لیے متوازن غذا اور ہلکی ورزش کا اہتما م بھی نہیں کرتے۔

جس کی وجہ سے پاکستان میں یہ مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے، پاکستان میں سالانہ 4سے 5لاکھ افراد دل کی بیماریوں میں مبتلا ہوکر موت کا شکار ہوجاتے ہیں، یہ باتیں انہوں نے واک کے شرکا سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہیں، کر و نا ایس او پیز کے باعث ڈاؤ اوجھا کیمپس اور ڈاؤ میڈیکل کالج و سول اسپتال میں علیحدہ علیحدہ واک کا اہتمام کیا گیا تھا، اوجھا کیمپس میں چیف آپریٹنگ آفیسر عفت سوامیر، ڈاکٹر طارق فرمان، ڈاکٹر افتخار، ڈاکٹر حارث علوی، ڈاکٹر رستم، جبکہ ڈاؤ میڈیکل کالج میں چیئر مین ڈیپارٹمنٹ آف کارڈیولوجی پروفیسر نواز لاشاری، ڈاؤ یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر اشعر آفاق، سول اسپتال کے میڈیکل سپریٹینڈینٹ ڈاکٹر نور محمد سومرو، جنرل سیکرٹری پاکستان ہائپر ٹینشن لیگ پروفیسر اسحاق، اے ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر اسماعیل میمن، ڈاکٹر رفعت سلطانہ، ڈاکٹر نجم، ڈاکٹر باری، ڈاکٹر کیلاش شریک تھے۔

(جاری ہے)

پروفیسر نواز لاشاری نے کہا کہ پاکستان میں پہلے معمر افراد دل کی بیماریوں کا شکار ہوتے تھے، مگر بدقسمتی سے یہ مرض کم عمر افراد میں تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ تمباکو نوشی،جن میں سگریٹ، پان، گٹکا، ماواکھانے والے افراد کا استعمال ہے۔انہو ں نے کہا کہ ہر فرد کو روزانہ واک کرنے کی عادت ڈالی چاہیے، 45منٹ کی واک اس مرض کی روک تھام میں خاطر خواہ کمی لاسکتی ہے۔

اس موقع پر رجسٹرار ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ڈاکٹر اشعر آفاق نے کہا کہ دل کے مریضوں کے لیے کرونا وائرس جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے آپس میں کم سے کم 6فٹ کا فاصلہ رکھیں، ماسک کا استعمال کریں، روزانہ ورزش کریں، ان پر عمل کر کے نہ صر ف ہم خو د کو مرض سے بچاپائیں گے، بلکہ اپنے عزیز و اقارب اور معاشرے کے لیے سود مند ثابت ہونگے، ساتھ ہی اس مرض پر ہونے والے بے جا خرچ سے بھی بچیں گے۔

یہ ذمہ داری طلبہ اساتذہ، والدین کے ساتھ معاشرے کے ہر فرد کی ہے کہ لوگوں کو متوازن غذا، روزانہ ورزش اور سادہ زندگی گزارنے کے لیے رہنمائی فراہم کریں اور میڈیا اس کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس موقع پر پروفیسر اسحاق نے کہا کہ پاکستان میں جنک فوڈ کے استعمال، آرام طلبی، لفٹ کا استعمال اور دوسرے طریقے جن سے جسمانی ورزش میں کمی واقع ہوتی ہے، بڑھتا جارہا ہے، ہمیں چاہیے کہ سیڑھیوں کا استعمال کریں، اس نے نہ صرف کولسٹرول بلکہ شوگر بھی کنٹرول میں رہے گی۔

انہو ں نے کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کو بچپن ہی سے سادہ زندگی اور ورزش کی عادت ڈالنی چاہیے۔خوراک میں اعتدال سے ہم کسی بھی بڑے مسائل کا شکا ر ہونے سے بچ سکتے ہیں، آج کل گھریلوپریشانیوں کی وجہ سے بھی دل کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، مناسب ورزش ہمارے دل کو توانائی مہیا کرتی ہے، انہو ں نے بتایا کہ پاکستان میں 20فیصد افراد بلند فشار خون، 10فیصد ذیابیطس، 30فیصد افراد موٹاپے کا شکار ہیں، جو دل کی بیماریوں کی بنیادی وجہ ہے۔

اس سلسلے میں ہمارے معاشرے کا رویہ کا غیر ذمہ دارانہ ہے، کرونا وبا کے بعد دل کی بیماریوں میں گھرے افراد کے لیے اور مشکلات بڑھ گئی ہیں، یہ مرض دل کی بیماریوں میں مبتلا لوگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے عام حالات میں کم سے کم 6فٹ کا فاصلہ رکھیں اور متوازن خوراک کا استعمال کریں۔اس موقع پر سول اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر نور محمد سومرو نے کہا کہ 45منٹ کی واک سے دل کے امراض سے ہونے والی شرح اموات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے۔ آخر میں کرونا وبا کے دوران جابحق ہوجانے والے ڈاکٹر وں اور پیرمیڈیکل اسٹاف کے لیے خصوصی دعا بھی کی۔