حکومت اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مذاکرات کامیاب، دھرنا ختم کردیا گیا

وزیر مملکت علی محمد خان کی یقین دہانی کے بعد دونوں فریقین میں 6 نکاتی معاہدے پر اتفاق ہوگیا

Sajid Ali ساجد علی منگل اکتوبر 11:07

حکومت اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مذاکرات کامیاب، دھرنا ختم کردیا گیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اکتوبر2020ء) وفاقی حکومت اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مذاکرات کامیاب ہوگئے ، 6 نکاتی معاہدے پر اتفاق کے بعد دھرنا ختم کردیا گیا۔ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ مذاکرات میں طے پایا کہ ہیلتھ ورکز کیلئے صوبے میں تنخواہ کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کو بھیجا جائے گا ، خواتین ورکرز کے تمام مسائل حل کرنے کیلئے ایک کمیٹی بنائی جائے گی جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی شامل ہوگی ، جب کہ حکومت تمام صوبوں کے آئی جیز کو ہیلتھ ورکرز کی سیکیورٹی کیلئے خط لکھے گی ، اس کے ساتھ ساتھ حکومت پنجاب ہیلتھ ورکرز کے سروس اسٹرکچر کیلئے 3 ماہ کے اندر اقدامات کرے گی۔

مزید یہ کہ وزير مملکت علی محمد خان کی طرف سے مظاہرین کو يقين دلايا گیا کہ ان کی تنخواہ میں اضافہ کریں گے ، يہ صوبائی معاملہ ہے جس کے لیے خصوصی کمیٹی بات چیت کرے گی، جس ميں تمام صوبوں کے سيکريٹری صحت شامل ہوں گے، جب کہ پنشن اورگریجویٹی کا معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب کی بنائی گئی کمیٹی کو بھیجا جائیگا، اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان کی قائم کردہ کمیٹی بھی ہیلتھ ورکرز کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی ، سیکریٹری صحت خیبرپختونخوا بھی لیڈیزہیلتھ ورکرز سے میٹنگ کر کے معاملات حل کریں گے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی طرف سے اسلام آباد کے ڈی چوک میں مطالبات کے حق میں دھرنا دیا گیا، جو کہ 6 روز تک جاری رہا ، جس کے بارے میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی صدر رخسانہ انور نے ڈی چوک پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم نے ساری سختیاں اور ریاستی جبر برداشت کیا، ہمارے دس مطالبات تھے جو آخر کار مان لیے گئے ، جب کہ ہمیں کہا گیا یہ صوبائی معاملہ ہے ، فیصل سلطان بھی آئے مگر کچھ بھی نہیں ہوا ،ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن بھی ہمارے ساتھ رابطے میں رہی ،ہم پر الزام لگایا گیا کہ بحالی کیلئے احتجاج کر رہے ہیں ، کبھی الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم سیاسی ایجنڈے پر یہاں آئے ہیں، جس کے بعد ہم نے نوکری پر بحال کرنے کا مطالبہ واپس لے لیا۔