کراچی سے صحافی کے لاپتہ ہونے کا معاملہ ، حامد میر نے اہم معلومات دے دیں

رپورٹر علی عمران سید کے لاپتہ ہونے والے اس واقعے کے بارے میں بہت جلد کچھ حقائق سامنے آنے والے ہیں ، تجزیہ کار حامد میر کا ٹوئٹ

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ اکتوبر 11:36

کراچی سے صحافی کے لاپتہ ہونے کا معاملہ ، حامد میر نے اہم معلومات دے ..
کراچی (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اکتوبر2020ء) کراچی سے لاپتہ ہونے والے ایک صحافی سے حوالے سے معروف تجزیہ کار حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ واقعے کے بارے میں بہت جلد کچھ حقائق سامنے آنے والے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے لکھا کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مصطفیٰ نواز کھوکھر اس وقت بلاول کے ساتھ شمالی علاقہ جات میں ہیں ، انہوں نے آج صبح فون پر مجھ سے علی عمران سید کے متعلق تفصیلات لے کر چیئرمین پیپلزپارٹی کو بتائیں ، جس کے بعد انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے بات کی۔

حامد میر نے لکھا کہ پولیس ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بارے میں بہت جلد کچھ حقائق سامنے آنے والے ہیں۔

(جاری ہے)


یاد رہےکہ نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر جو کہ کراچی سے تعلق رکھتے ہیں گزشتہ رات سے گھر سے غائب ہیں ، جس کے حوالے سے ان کی بیوی کہنا ہے کہ میرے شوہر علی عمران سید گھر آئے بڑے پریشان لگ رہے تھے ،گاڑی کھڑی کی اور کہا کہ میں ساتھ والی بیکری تک جا رہا ہوں مگر چار گھنٹے گزر گئے ہیں ابھی تک واپس نہیں آئے ،علی عمران سید کا موبائل اور گاڑی گھر پر ہی ہے جس وجہ سے ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ، اس ضمن میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ علی عمران سید وہی رپورٹر صحافی ہیں جنہوں نے کیپٹن ر صفدر کی ہوٹل سے گرفتاری کی خبر سب سے پہلے چلائی اور اس کی ویڈیو بھی میڈیا پر شیئر کی تھی ، علی عمران سید کی گمشدگی کے حوالے سے ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا نہ تو پولیس ذرئع نے ابھی تک کوئی خبر دی ہے اور نہ ہی ان کے گھر والوں کو کسی قسم کی سمجھ آ رہی ہے کہ وہ کہاں گئے ہیں ،اس وقت تک گھر بھی نہیں پہنچے اور بتا کر یہی گئے تھے کہ گھر کے ساتھ والی بیکری تک جا رہے ہیں مگر گھر واپس نہیں آئے ،اب دیکھنا یہ ہے کہ سکیورٹی ادارے کتنی دیر تک علی عمران سید کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں اور اس گمشدگی کے پیچھے کیا معاملہ ہے کیا ان کا اغوا ہوا ہے،یا پھر وہ کسی دوست یا رشتہ دار کے پاس گپ شپ کے لیے چلے گئے یہ وقت گزرنے پر پتا چلے گا۔