پشاور،مدرسے میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق،112زخمی ، بعض کے جسم جھل گئے ، حالت تشویشناک

دھماکے کے دور ان مدرسے میں قرآن پاک کی کلاس جاری تھی ، بیگ میں 5سے 6کلو دھماکہ خیزمواد رکھا گیا ، حکام دہشت گردی سے متعلق عمومی تھریٹ موجود تھا، آئی جی خیبر پختو نخوا … ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی تعلیم و تدریس حاصل کرنے والے طلبہ پرحملہ کرنے والوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں، صدر مملکت ، وزیر اعظم ، وزراء اور سیاسی و مذہبی شخصیات کی مذمت دہشت گرد اپنے مقاصد کے لیے سافٹ ٹارگٹ دیکھتے ہیں اور بچے اور مدرسے سافٹ ٹارگٹ تھے، شوکت یوسفزئی کی میڈیا سے گفتگو … وزیر اعلیٰ کی بھی مذمت

منگل اکتوبر 13:18

پشاور،مدرسے میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق،112زخمی ، بعض کے جسم جھل گئے ..
$پشاور/اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 اکتوبر2020ء) صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مدرسہ جامعہ زبیریہ میں بم دھماکے نتیجے میں طلبہ سمیت 7 افراد شہید اور دواساتذہ سمیت112 زخمی ہوگئے،زخمیوں میں زیادہ تر جھلس گئے ،بعض کی حالت نازک ہے جس کے باعث شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ،دھماکے کے دور ان مدرسے میں قرآن پاک کی کلاس جاری تھی ، بیگ میں 5سے 6کلو دھماکہ خیزمواد رکھا گیا ، دھماکے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی،صدر مملکت عارف علوی ، وزیر اعظم عمران خان سمیت متعدد سیاسی ومذہبی شخصیات نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم و تدریس حاصل کرنے والے طلبہ پرحملہ کرنے والوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔

(جاری ہے)

منگل کو سینئرسپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشن منصور امان نے بتایا کہ دھماکا پشاور کی دیر کالونی میں واقع ایک مدرسے میں ہوا۔ایس ایس پی آپریشنز منصور امان نے 7 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا منصور امان نے کہاکہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ امپرووائزڈ ایکسپلوزو ڈیوائس (آئی ای ڈی) دھماکا تھا جس میں 5 سے 6 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

ادھر ایک اور سینئر پولیس عہدیدار نے بتایا کہ مدرسے میں دھماکا اس وقت ہوا جب قرآن پاک کی کلاس جاری تھی اور کوئی فرد مدرسے میں بیگ رکھ کر چلا گیا۔ایک اور سینئر پولیس افسر محمد علی گنڈاپور نے ان معلومات کی تصدیق کی اور کہا کہ زخمی ہونے والوں میں 2 استاد بھی شامل ہیں۔مدرسے میں ہونے والے دھماکے کے حوالے سے عینی شاہد نے بتایاکہ دھماکے کے وقت مدرسے میں ایک ہزار سے 1200 افراد موجود تھے۔

عینی شاہد کے مطابق مدرسے میں دوسرا پیریڈ شروع ہونے والا تھا کہ ہال میں بیٹھے طلبا کے درمیان اچانک دھماکا ہوا، دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی ۔انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس ثناء اللّٰہ عباسی نے دھماکے میں متعدد افراد کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردی سے متعلق عمومی تھریٹ موجود تھا۔سی سی پی او پشاور کے مطابق ہر پہلو سے واقعہ کو دیکھ رہے ہیں، مدرسے میں داخل ہونے والے مشکوک شخص کی تلاش شروع کر دی گئی ، عوام کو بھی اپنی سیکیورٹی کا خیال رکھنا چاہیے۔

دوسری جانب لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ دیر کالونی میں دھماکے کے بعد 7 لاشوں اور 83 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔40 زخمیوں کوابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا۔ترجمان ایل آر ایچ کے مطابق 25 کو اے این ٹی منتقل کیا گیا ، 4 زخمیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں میں 4 طالبعلم بھی تھے جن کی عمریں 15 سے 25 سال کے درمیان تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جا رہی ہیں تاہم زیادہ تر زخمی جھلسے ہوئے ہیں ، ہسپتال ڈائریکٹر محمد طارق برکی خود ایمرجنسی ٹیم کے ہمراہ ایمرجنسی میں موجود رہے ۔واقعہ کے بعد صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے بھی جائے وقوع کا دورہ کیا اور اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت توجہ زخمیوں کو بہترین علاج فراہم کرنے پر ہے تاکہ وہ جلد از جلد ٹھیک ہوسکیں۔

دوسری جانب پشاور میں دھماکے پر صدر وزیراعظم سمیت سیاسی شخصیات نے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔اپنے ایک بیان میں وزیراعظم عمران خان اور صدر مملکت عارف علوی نے پشاور دھماکے کی شدید مذمت کی اور دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔عمران خان نے افسوسناک واقعہ میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا بھی کی۔

وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ ، وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز سمیت وفاقی و صوبائی وزراء، وزرائے اعلیٰ ، وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان، صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان سمیت متعدد شخصیات نے نے کہا کہ پشاور مدرسے میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ تعلیم و تدریس حاصل کرنے والے طلبہ پرحملہ کرنے والوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے لکھا کہ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والوں کے مذموم عزائم خاک میں ملائیں گے، انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔ چیئر مین سینٹ ، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پشاور کی دیرکالونی میں دھماکے کی مذمت کی اور کہا کہ دھماکا ملک کے امن کو سبوتاژکرنے کی بزدلانہ کارروائی ہے، اس طرح کے حملے امن کے نفاذ کے لیے ہماری کوششوں کو روک نہیں سکتے۔

انہوں نے لکھا کہ ملوث عناصر کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ٹوئٹر پر لکھا کہ پشاور مدرسے میں دھماکادل دہلا دینے والا واقع ہے، بالخصوص بچوں کو ہونے والے نقصان نے انتہائی رنجیدہ کردیا ہے۔ جن ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں، ان کے دکھ کا تصور اور ازالہ ممکن نہیں!خیبر پختونخوا کے وزیر برائے کلچر شوکت یوسفزئی نے مدرسے میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو مذہب سے تعلق نہیں ہے۔

شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ علاقے میں کافی عرصے سے امن تھا اور سیکورٹی بھی بہتر تھی، کوئٹہ اور پشاور میں دہشت گردی تھریٹ الرٹ تھا، تھریٹ الرٹ کے بعد سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی تھی۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے بزدلانہ کارروائی کی ہے، دہشت گرد اپنے مقاصد کے لیے سافٹ ٹارگٹ دیکھتے ہیں اور بچے اور مدرسے سافٹ ٹارگٹ تھے۔صوبائی وزیر برائے کلچر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کے پی محمود خان نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔