فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ اور تجارتی روابط ختم کردیئے جائیں ، فضل الرحمان

فرانس کے صدر کے بیانات سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ، فرانسیسی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے منسوخ کیے جائیں ، عوام سڑکوں پر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کریں ، پی ڈی ایم سربراہ کی نیوز کانفرنس

Sajid Ali ساجد علی منگل اکتوبر 15:11

فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ اور تجارتی روابط ختم کردیئے جائیں ، فضل ..
سکھر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اکتوبر2020ء) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے عوام سے اپیل کہ ہے کہ وہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ کے شہر سکھر میں جمعیت علماء اسلام ف کے امیر اور سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ فرانسیسی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے منسوخ کیے جائیں ، مغربی ممالک مذہبی بےحسی کو برداشت کا نام دیتے ہیں ، ایسے ممالک سے تجارتی روابط ختم کردیئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ فرانسیسی صدر مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کررہے ہیں ، فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی مذمت کرتے ہیں ، مسلمانوں یا کسی کی بھی دل آزاری کا عمل جرم کہلاتا ہے، آزادی اظہار رائے کسی کی بھی دل آزاری نہیں ہونی چاہیے، فرانسیسی صدر کے بیانات سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی، عوام سڑکوں پر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کریں۔

(جاری ہے)

قبل ازیں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ نے بھی پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک سے فرانس کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ، چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ فرانس کا بائیکاٹ کیا جائے تا کہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے ، انہوں نے کہا کہ فرانسیسی صدر مسلمانوں کے جذبات سے نہ کھیلیں ورنہ انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ، توہین آمیز خاکے عالم اسلام کی تضحیک ہیں ، چوہدری پرویز الہیٰ نے مطالبہ کیا کہ او آئی سی اجلاس بلایا جائے، زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اقدمات کریں۔

دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے گستاخانہ خاکوں پرفرانسیسی صدر کے اسلام مخالف بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی صدر نے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا، میکرون کو انتہا پسندوں کو موقع نہیں دینا چاہیے تھا ، لیڈر کی پہچان یہ ہے کہ وہ لوگوں کو متحد کرتا ہے، فرانسیسی صدر کو دنیا کو تقسیم کرنے کے بجائے معاملات کو حل کرنا چاہئے تھا ، دنیا کو تقسیم کرنے سے انتہا پسندی مزید بڑھے گی ، نیلسن منڈیلا نے لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کیا ، دنیا کو تقسیم کرنے سے انتہا پسندی مزید بڑھے گی، توہین آمیز خاکوں کے ذریعے اسلام پر حملے لاعلمی کا نتیجہ ہیں۔