پی ایم سی قانون آئین سے بالاتر تو نہیں ہوسکتا،مرکز صوبوں کے حق کی قانون سازی کیسے کرسکتا ہے،نفیسہ شاہ

نفیسہ شاہ کے سوال کے دوران حکومتی ارکان کی مداخلت پر تلخی بڑھی …حکومتی ارکان کو تربیت کی ضرورت ہے ، رکن پیپلز پارٹی

جمعرات اکتوبر 17:28

پی ایم سی قانون آئین سے بالاتر تو نہیں ہوسکتا،مرکز صوبوں کے حق کی قانون ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 اکتوبر2020ء) پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ پی ایم سی قانون آئین سے بالاتر تو نہیں ہوسکتا،مرکز صوبوں کے حق کی قانون سازی کیسے کرسکتا ہے۔ جمعرات کو یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجوں و ڈینٹل داخلوں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس قومی اسمبلی میں پیش کیاگیا ۔ پیپلز پارٹی کی رکن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہاکہ موجودہ پاکستان میڈیکل کمیشن میں صوبوں کی نمائندگی نہیں ہے ،آئین پاکستان کے تحت تعلیم صوبوں کو جاچکی ہے۔

انہوںنے کہاکہ پی ایم سی قانون آئین سے بالاتر تو نہیں ہوسکتا،مرکز صوبوں کے حق کی قانون سازی کیسے کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ غیر قانونی طریقے سے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجوں کے داخلہ ٹیسٹ سے روکنے اور نیشنل ایگزامینیشن بورڈ معطل کئے جارہے ہیں،آج تک صوبے ٹیسٹ لیتے رہے آج آپ نے ستر سال بعد پی ایم سی کے تحت کردیا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ یہ رویہ میڈیکل تعلیم کا بیڑا غرق کردے گا،ہم یہاں مراد سعید اور فواد چوہدری کے لیکچرز سنتے اور ہماری یہاں بات نہیں سنتے۔

وزیر مملکت نے کہاکہ صوبے ڈومیسائل کو دیکھ سکتے ہیں ،ہم نے ایک کم سے کم پالیسی مرکز اور صوبوں کو دے دی ہے۔میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے داخلہ ٹیسٹ سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر ایوان میں تلخی دیکھی گئی ،نفیسہ شاہ کے سوال کے دوران حکومتی ارکان کی مداخلت پر تلخی بڑھی ۔نفیسہ شاہ نے کہاکہ حکومتی ارکان کو تربیت کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سیاسی نابالغ ہیں ۔

نفیسہ شاہ نے کہاکہ یہ رٹے رٹائے جواب کے سوا کسی سوال کا جواب دینے کے اہل ہی نہیں ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ 70 سال سے میڈیکل اور ڈینٹل ایجوکیشن کی فالٹ لائن چینج نہیں ہوئی ہے ،دستور کے مطابق شعبہ صحت صوبائی معاملہ ہے،سوال کے دوران حکومتی ارکان کی مداخلت، پینل آف چیئر نے بھی سوال کرنے کی ہدایت کردی ۔ نفیسہ شاہ نے کہاکہ اگر میرا سوال نہیں سنا جائیگا تو پھر ایسے ہی بات ہوگی۔

نفیسہ شاہ نے تنقید کی کہ چپ کرکے سنیں، مجھے پتہ ہے آپ غیر جمہوری ہیں، آپ میں بات سننے کا حوصلہ ہی نہیں ہے، 70 سال سے ٹیسٹنگ صوبے کرتے ہیں، آپ اس ٹیسٹ کو راتوں رات تبدیل کیا جارہا ہے، طلباء کیسے اس امتحان میں بیٹھیں گے، ٹیسٹ ڈومیسائل کی بنیاد پر ہوتے تھے اگر اسے چھیڑا گیا تو پھر صوبوں کا کوٹہ متاثر ہوگا۔