میگا کرپشن، وائٹ کالر مقدمات کومنطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے، جسٹس (ر)جاوید اقبال

نیب احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پر عزم ہے،چیئرمین نیب کا جائزہ اجلاس سے خطاب

جمعہ نومبر 22:01

میگا کرپشن، وائٹ کالر مقدمات کومنطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 نومبر2020ء) قومی احتساب بیورو ( نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ میگا کرپشن وائٹ کالر مقدمات منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔نیب احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پر عزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈ کوارٹر میں آپریشن اور پراسیکوشن ونگ کی کارکردگی کے جائزہ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ نیب کے آپریشنل اور پراسیکوشن ڈویڑن کی شکایت کی جانچ پڑتال انکوائریوں، انوسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق نمٹانے، احتساب عدالتوں، ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ میں مقدمات کی پیروی کیلئے تمام علاقائی بیوروز کو قانونی معاونت فراہم کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

اجلاس کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی ہدایات پر تجربہ کار لیگل کنسلنٹس اور سپیشل پراسیکوٹر تعینات کرکے پراسیکوشن ڈویڑن کی تشکیل نو کی گئی ہے۔

نیب کے تمام علاقائی بیوروز میں شہادتوں کو نمٹانے کا بھی طریقہ کار واضح کیا گیاہے جس کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پراسیکوشن ڈویڑن کی مسلسل مشاورت مانیٹرنگ اور کارکردگی کے تجزیے سے نیب کے مقدمات کی مجموعی سزا کی شرح تقریباً 68.8 فیصد ہے جوکہ کسی بھی ادارے کی بہترین کارکردگی ہے۔ احتساب عدالت لاہور نے ریفرنس نمبر 50/2014, 51/2014, 52/2014, 53/2014, 54/2014کا فیصلہ سنایا ہے جس کے تحت مرکزی ملزم نذیر احمد خان کو ہر مقدمے میں واجب الادا رقم کے مجموعی جرمانے کے ساتھ ساتھ 5 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

ملزم نذیر احمد خان کوریفرنس نمبر 50/2014میں5118740روپے جرمانے کے ساتھ ساتھ 5 سال کی سزا ، ریفرنس نمبر 51/2014میں 7287692روپے جرمانے کے ساتھ ساتھ 5 سال کی سزا ،ریفرنس نمبر 52/2014میں 24706125روپے جرمانے کے ساتھ ساتھ 5 سال کی سزا ،ریفرنس نمبر 53/2014میں 23412459روپے جرمانے کے ساتھ ساتھ 5 سال کی سزا ،ریفرنس نمبر 54/2014میں 28059300روپے جرمانے کے ساتھ ساتھ 5 سال کی سزاسنائی ہے ،احتساب عدالت لاہور نے ریفرنس نمبر 07/2007میں ملزم غلام مصطفے رندھاوا کو 5 سال کی سزا جبکہ غلام مرتضی رندھاوا کو چار سال کی سزا سنائی ہے جبکہ دونو ں ملزمان کو 50پچاس لاکھ روپے جرمانہ کی سزا بھی سنائی ہے۔

جرمانہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں دونوں ملزمان کو 6ماہ مزید سزا کاٹناہوگی۔اجلاس کو بتایاگیا۔احتساب عدالت لاہور نے ریفرنس نمبر 29/2019میں ملزمان ظہیر ناصر ،مقصود احمد اور ذیشان احمدکو سات سات سال قید اور ہر ایک کو 5پانچ لاکھ روپے کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ بھی بتایاگیاکہ احتساب عدالت لاہور نے ملزم روف ارشد کی 1.843831ملین روپے پلی بارگین کی درخواست منظور کرلی ہے۔

چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہاہے کہ میگا کرپشن وائٹ کالر مقدمات منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔نیب احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پر عزم ہے۔۔ چیئرمین نیب نے تمام علاقائی بیوروز کو ہدایت کی کہ وہ عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات کی مکمل تیاری کے ساتھ قانون کے مطابق پیروی کریں۔