حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کی طرف سے شہدائے ہندواڑہ ، کپواڑہ اورسوپور کو زبردست خراج عقیدت

بدھ جنوری 17:43

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 جنوری2021ء) بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیرمیںبھارتی فوجیوں کی طرف سے ماہ جنوری میں پیش آنے والے ہندواڑہ ، سوپور اور گائوکدل قتل عام کے المناک واقعات کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئیکل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموںوکشمیر شاخ کے زیر اہتمام آج( بدھ) اسلام آباد میں شہداء کانفرنس منعقد کی گئی ۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مقررین نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ماہ جنوری میں مقبوضہ کشمیر میں بیگناہ شہریوں کے قتل عام کے انتہائی دلدوز واقعات رونما ہوئے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ 21جنوری 1990کو بھارتی فوج نے سرینگر کے علاقے گائوکدل میں اندھا دھند فائرنگ کر کے 52کشمیریوںکو شہید اور اسی سال 25جنوری کو ہندواڑہ میںبلا اشتعال فائرنگ کر کے 25کشمیریوںکو شہید اوربیسیوں کو زخمی کردیاتھا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ 6جنوری 1993کو بھارتی فوجیوںنے سوپور میں آگ لگا کر 65کشمیریوںکو زندہ جلا دیا تھا۔ اس سانحہ میںاربوں روپے مالیت کی املاک بھی جل کرخاکستر ہو گئی تھیں ۔ 25جنوری1994کو کپواڑہ میں قابض فوجیوںنے فائرنگ کر کے 23بے گناہ کشمیریوںکو شہید کردیاتھا جبکہ 25جنوری 1998کو واندہ ہامہ میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں اور فوجیوںنے کشمیریوںکی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو بدنام کرنے کیلئے 23کشمیری پنڈتوں کا قتل عام کیا تھا۔

اس موقع پر شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ بھارت ان ظالمانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوںکے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کر سکا ہے بلکہ ان سے انکا جذبہ مزید مستحکم اور مضبوط ہو ہوا ہے۔ انہوںنے مقبوضہ جموںوکشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور نہتے کشمیریوںپر ڈھائے جانے والے مظالم پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیاکہ وہ مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم بند کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

حریت قائدین نے کہاکہ بھارت نے مقبوضہ جموںوکشمیر میں اپنی فوج کو انسانی حقوق کی پامالیوں ا ور نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ کشمیریوںکی قربانیوںکی وجہ سے مسئلہ کشمیر کوعالمی سطح پر مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے ۔ اجلاس میں مصطفی محمد حسین خطیب، سید فیض نقشبندی ، محمد فاروق رحمانی ، نذیر احمد شال ، تنویر الاسلام، محمود احمد ساغر، سید یوسف نسیم، شیخ محمد یعقوب، شیخ عبدالمتین، عبدالمجید ملک ، اشتیاق حمید ، شمیم شال ، راجہ خادم حسین ، دائود خان یوسفزئی ، حاجی سلطان بٹ ، نثار مرزا، میاں مظفر ، حسن البنا، مشتاق بٹ ، سید مشتاق مجتبیٰ ، گلشن احمد ،سلیم ہارون اور امتیاز وانی نے شرکت کی ۔