تربیتی پروگرام افسران کی پیشہ و رانہ مہارت بڑھانے ، جدید تقاضوں کے عین مطابق عوام کو خدمات کی فراہمی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں،سید ناصر حسین شاہ

جمعہ جنوری 22:29

تربیتی پروگرام افسران کی پیشہ و رانہ مہارت بڑھانے ، جدید تقاضوں کے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 15 جنوری2021ء) صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ تربیتی پروگرام افسران کی پیشہ و رانہ مہارت بڑھانے اور جدید تقاضوں کے عین مطابق عوام کو خدمات کی فراہمی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم یہ تربیتی پروگرام کے شرکاء پر منحصر ہے کہ وہ اس سے کتنا مستفید ہو تے ہیں اور حاصل معلومات اپنے فرائض کی انجام دہی میں کس حد تک بروئے کار لاتے ہیں. یہ بات انہوں نے مقامی ہوٹل میں تربیتی پروگرام کے اختتامی سیشن سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی، پانی، صفائی، حفضان صحت پالیسیاں، نظام اور خدمات کی فراہمی ' کے موضوع پر تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد واٹر ایڈ پاکستان نے محکمہ بلدیات سندھ کے تعاون سے کیا تھا جس میں سندھ سول سروسز اور لوکل گورنمنٹ اکیڈمی ٹنڈو جام ، لوکل گورنمنٹ اینڈ ہاؤس ٹاؤن پلاننگ ڈیپارٹمنٹ ، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو اینڈ ایس بی) ، واٹر اینڈ سیینیٹیشن اتھارٹی (واسا) حیدرآباد اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے افسران نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ وہ دو مرتبہ ضلع ناظم کی حیثیت سے بہت سے تربیتی پروگرام میں شرکت کر چکے ہیں، انہوں امید کا اظہار کیا کہ سرکاری افسران تربیت سے حاصل معلومات کو بروئے کار لائیں گے اور نچلی سطح پر اپنے شعبوں میں خدمات کی فراہمی میں بہتری لائیں گے اور اپنے تجربے کو آگے بڑھاتے ہوئے دوسروں تک پہنچائیں گے صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے واش سیکٹر میں واٹر ایڈ پاکستان کے تعاون کو سراہا اور اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی، اس موقع پر واٹر ایڈ پروگرام کے ہیڈ منور حسن نے کہا کہ واٹر ایڈ پانی اور صفائی ستھرائی کی خدمات کو بہتر بنانے کے لئے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور سرکاری شراکت داروں کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی اور صفائی ستھرائی پاکستان کے بین الاقوامی انسانی حقوق کے وعدوں اور ایس ڈی جی اہداف کا ایک اہم حصہ ہے۔ تربیت کے اختتام پر مہمان خصوصی وزیر بلدیات و اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔ #