کریمہ بلوچ کی تدفین کے موقع پر کوئی کرفیو نہیں تھا، جام کمال خان

بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا سب سے بڑا ثبوت کلبھوشن یادیو ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان

بدھ جنوری 19:26

کریمہ بلوچ کی تدفین کے موقع پر کوئی کرفیو نہیں تھا، جام کمال خان
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 جنوری2021ء) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کریمہ بلوچ کی تدفین کے موقع پر کوئی کرفیو نہیں تھا، میت جیسے ہی آئی اسے ان کے آبائی علاقے تمپ میں پہنچایا گیا تھا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کریمہ بلوچ کی تدفین میں مقامی افراد نے شرکت کی تھی ، پہلی مرتبہ خواتین نے بھی جنازے میں شرکت کی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ جو پارٹیاں اس معاملے کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کررہی تھیں کریمہ کی ماضی کی بہت سے تقاریر اسی نیشنل پارٹی اور بی این پی مینگل کے خلاف ہیں، ہم سے زیادہ کریمہ نے ان کے خلاف بات کی تھی۔کریمہ بلوچ کی موت کے حوالے سے کینیڈین حکومت سے سوال کرنے کے بارے میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ مجھے یقین ہے حکومت پاکستان نے اس معاملے کو کینیڈین حکومت کے ساتھ اٹھایا ہوگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ کینیڈا میں ہوا جہاں دنیا کے بہترین قوانین نافذ ہیں، وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو دنیا کا بہترین وزیراعظم کہا جاتا ہے تو یہ واقعہ ان کے ملک میں ہوا اور انہیں وضاحت کرنی ہے، کینیڈا کا اپنا نظام ہے وہ اپنے نظام کے تحت کام کرے گا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا سب سے بڑا ثبوت کلبھوشن یادیو ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہر جگہ ایک ملک دوسرے ملک میں مداخلت کرتا ہے، یہ چلتا رہتا ہے اور ہمیشہ چلتا رہے گا البتہ ہم چیزوں کو بہتر بنارہے ہیں اور اس سلسلسے میں سرحدوں پر باڑ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بہتر، بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں اضافہ کیا جارہا ہے۔انہوںنے کہاکہ ماضی میں محکمہ انسداد دہشت گردی صرف کوئٹہ میں تھا جسے بڑھا کر 33 اضلاع میں پہنچا دیا گیا ہے، ہم وہ سارے اقدامات کررہے ہیں جس سے بیرونی مداخلت کو کم کیا جاسکے۔