وفاقی حکومت نے بجلی پرعائد نیلم جہلم سرچارج ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا

بڑھتی ہوئی مہنگائی میں عوام کو ریلیف دینے کے لئے کل جمعرات کے روز ہونے والے ای سی سی کے اجلاس میں وزیراعظم امدادی پیکج کے تحت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کے لیے سبسڈی دینے کی منظوری کا بھی امکان ہے

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری بدھ فروری 23:54

وفاقی حکومت نے بجلی پرعائد نیلم جہلم سرچارج ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا
 اسلام آباد (اُردو پوائنٹ، تازہ اخبار17 فروری 2021) نیلم جہلم ڈیم کی تعمیر کئی برس قبل مکمل ہو جانے کے باوجود آج بھی بجلی پر عائد نیلم جہلم سرچارج عوام سے وصول کیا جا رہا ہے، لیکن اب حکومت نے نیلم جہلم سرچارج ختم کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی میں عوام کو ریلیف دینے کے لئے وزیراعظم امدادی پیکج کے تحت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کے لیے سبسڈی دینے کی منظوری کا بھی امکان ہے۔

بتایا گیا ہے کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی)کے جمعرات کو صبح ساڑھے گیارہ بجے وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں آٹھ نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جائے گا۔ ایجنڈے کی کاپی کے مطابق کل جمعرات کے روز ہونے والے ای سی سی کے اجلاس میں وزارت توانائی کی جانب سے پیش کی جانے والی دواہم سمریوں کی منظوری کا جائزہ لیا جائے گا۔

(جاری ہے)

پہلی سمری میں وزارت توانائی آف شور سپلائی کنٹریکٹرز کو کی جانے والی ادائیگیوں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت توانائی کی ہی سمری پر بجلی کے بلوں پر صارفین سے وصول کئے جانے والے 10 پیسے فی یونٹ نیلم جہلم سرچارج کی منسوخی پر بھی غور ہوگا اور توقع ہے کہ نیلم جہلم سرچارج ختم کرنے کی منظوری دے دی جائے گی کیونکہ نیلم جہلم سرچارج ختم ہوچکا ہے اور اس بارے میں قائمہ کمیٹیوں کی جانب سے بھی سفارش کی جاچکی ہے۔

خیال رہے کہ کل جمعرات کے روز ہونے والے ای سی سی کے اجلاس مین نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹفک کمیشن آف پاکستان(این ای سی او پی) کے لئے حکومتی خود مختار گارنٹی کی منظوری دینے پر بھی غور ہوگا نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹفک کمیشن آف پاکستان اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لئے فنانسنگ کا انتظام کرنا چاہتا ہے جس کیلئے بونڈز جاری کرنے کی تجویز ہے اور اس کے لئے حکومت کی خودمختار گارنٹی چاہتا ہے۔

اس کے علاوہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے ٹیلی کام سیکٹر پر ٹیکسوں سے متعلق ایشوئز حل کرنے کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام کی منظوری پر بھی غور ہوگا۔  بڑھتی ہوئی مہنگائی میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے وزیراعظم امدادی پیکج کے تحت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کیلئے سبسڈی کی منظوری کا بھی امکان ہے۔