امریکی فوجی اڈاے پر حملہ‘سعودی عرب کے خلاف مقدمہ قائم

فلوریڈا بیس کے متاثرین کے اہل خانہ نے سعودی حکومت کو واقعہ کا ذمہ دار ٹہرایا ہے

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل فروری 16:29

امریکی فوجی اڈاے پر حملہ‘سعودی عرب کے خلاف مقدمہ قائم
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-ا نٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 فروری ۔2021ء) امریکی ریاست فلوریڈا میں واقع ایک فوجی اڈے پر 2019 میں فائرنگ کے واقعے کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ نے سعودی عرب کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ریاست جانتی تھی کہ بندوق بردار شخص بنیاد پرست ہے اور وہ ان ہلاکتوں کو روک سکتی تھی. فلوریڈا کے شمالی ضلع میں جاں بحق تین افراد اور 13 دیگر زخمی ہونے والے افراد کے اہل خانہ بشمول شیرف ڈپٹیز نے مقدمہ دائر کیا تھا واضح رہے کہ نیول ایئر اسٹیشن پینساکولا میں تربیت حاصل کرنے والے سعودی فضائیہ کے افسر محمد سعید الشامرانی نے 6 دسمبر 2019 کو تین امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا.

(جاری ہے)

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ مقدمہ امریکی عہدے داروں کے حملہ کے حوالے سے واقعے کے ہی ہفتوں میں سعودی شہری کے القاعدہ سے منصوبہ بندی اور تدبیروں کے بارے میں بات چیت اور اس کے امریکا میں فوجی تربیتی پروگرام میں آنے سے قبل ہی بنیاد پرست بنانے کے حوالے سے کے انکشاف کے 9 ماہ بعد سامنے آیا مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سعودی عرب القاعدہ کے ساتھ سعید الشامرانی کی وابستگی اور اس کی بنیاد پرستی کے بارے میں جانتا تھا اور پھر بھی اس کی نگرانی یا اس کی اطلاع دینے میں ناکام رہا.

اس مقدمے میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ فوجی اڈے پر موجود دیگر سعودی ٹرینیز حملے کے منصوبوں کے بارے میں پہلے سے ہی جانتے تھے تاہم انہوں نے اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا اس کا کہنا ہے کہ حملہ آورر نے حملے سے ایک رات قبل عشائیہ پارٹی میں ساتھی سعودی ٹرینیوں سے کہا تھا کہ اس نے شوٹنگ اگلے دن ہی انجام دینے کا ارادہ کیا ہے تاہم اس کی اطلاع دینے کے بجائے انہوں نے صبح بیماری کا بہانہ بنایا اور ایک نے عمارت کے باہر کھڑے ہو کر فائرنگ کی ویڈیو بنائی قریب موجود دو افراد نے ایک کار سے پورا واقعہ دیکھا.

مقدمے کے مطابق حملے کے مقام پر موجود سعودی عرب کی رائل ایئر فورس کے کسی بھی تربیت یافتہ نے سعید الشامرانی کے رویے کی اطلاع نہیں دی اور نہ ہی انہوں نے اسے روکنے کی کوشش کی کیونکہ انہوں نے اس کی حمایت کی شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سعید الشامرانی کے ساتھی سعودی ٹرینی اس بات سے واقف تھے کہ اس نے اپنی بیرک میں آتشی اسلحہ اور گولہ بارود خریدا اور محفوظ کررکھا ہے اور یہ کہ اس نے شدت پسندانہ مواد سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا اور شیئر کیا تھا.

مقدمے میں کہا گیا کہ سعید الشامرانی ایک ٹروجان ہارس تھا جو اپنے ملک، سعودی عرب اور اس کے پراکسی القاعدہ کی جانب سے فلوریڈا کے نیول ایئر اسٹیشن، پینساکولا میں فلائٹ ٹریننگ کے لیے بھیجا گیا تھا جوامریکا سے اربوں ڈالر کے فوجی اسلحہ کی فروخت کے معاہدے کے تحت ہے ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کو کیا معلوم تھا کہ اس طرح کا معاہدہ ایک خوفناک سودا بن جائے گا.