چوہوں کی طرح حکومت نہیں کر سکتا

حفیظ شیخ کی شکست حکومت پر عدم اعتماد ہے، جس رکن اسمبلی کو مجھ پر اعتماد نہیں وہ سامنے آ کر اظہار کرے، سینیٹ میں اپ سیٹ شکست پر وزیراعظم کا پہلا باقاعدہ ردعمل

muhammad ali محمد علی جمعرات مارچ 00:23

چوہوں کی طرح حکومت نہیں کر سکتا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مارچ2021ء) وزیراعظم کے مطابق وہ چوہوں کی طرح حکومت نہیں کر سکتے۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ الیکشن کے دوران قومی اسمبلی سے جنرل نشست پر اپ سیٹ شکست ہونے کے بعد وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پہلا باقاعدہ ردعمل دیا گیا ہے۔ سینیٹ انتخابات میں اپ سیٹ شکست کے بعد حکومتی وزراء کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حفیظ شیخ کی شکست حکومت پر عدم اعتماد ہے، جس رکن اسمبلی کو مجھ پر اعتماد نہیں وہ سامنے آ کر اظہار کرے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ پی ڈی ایم کے لوگوں کی طرح بزدل نہیں ہیں، وہ چوہوں کی طرح ڈر ڈر کر حکومت نہیں کر سکتے۔ جنگ ابھی شروع ہوئی ہے، انتخابات میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے جدوجہد جاری رہے گی۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے آرٹیکل 91 کے تحت صدر مملکت کو سمری بھیج کر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی درخواست کی جائے گی۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس کل ہی طلب کر کے وزیراعظم کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لیا جائے گا۔

جبکہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کی سیٹ پر پہلے دن سے اشارے مل رہے تھے ان کو نہ چاہتے ہوئے بھی یقین دلایا گیا کہ پریشان نہ ہوںآ پ کی جیت میں ہر حربہ استعمال ہوگا، عمران خان کے بیانیئے پر آج ایک مہر ثبت کردی گئی۔ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا، پچھلے سینیٹ الیکشن میں جب ضمیروں کو خریدا گیا تو ہم نے فی الفور ایکشن لیا اور 20ارکان کو پارٹی سے رخصت کیا۔

اس کوسامنے رکھتے ہوئے ہم نے جمہوریت کے چیمپیئنز کو دعوت دی کہ آؤ اوپن بیلٹ کرتے ہیں، آئینی ترمیم کی کوشش کی، اسمبلی میں ترمیم کو لے کر گئے، پارلیمنٹ میں دو بڑی جماعتوں کا رویہ دیکھا انہوں نے بحث ہی نہیں ہونے دی۔ ابہام کو دور کرنے کیلئے آئین اس بارے کیا رائے رکھتا ہے؟ ہم سپریم کورٹ ریفرنس لے کر گئے کیونکہ سپریم کورٹ کے پاس آئین کی تشریح کا حق ہے، سپریم کورٹ کی رائے کا بھی ہم نے احترام کیا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو آئین کے عین مطابق الیکشن کروانے کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔

لیکن الیکشن کمیشن پاکستان شفافیت دکھانے میں ناکام رہا، ایک ویڈیواور آڈیو سامنے آئی ، تو فواد چودھری ایک رات پہلے الیکشن کمیشن گئے لیکن وہاں سناٹا تھا ، وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔فواد چودھری نے میڈیا کے سامنے تحفظات کا اظہار بھی کیا، ویڈیو آنے کے بعد الیکشن کمیشن پر سب سے زیادہ ذمہ داری تھی کہ الیکشن کو شفاف بناتے۔ جس قسم حرکتیں پیپلزپارٹی نے کی ہیں،سب نے دیکھ لی ہے۔

الیکشن کمیشن کو کہا ٹیکنالوجی کا سہارا لیں انتخاب کو یقینی بنائیں، جواب دیا کہ اگلے الیکشن میں کریں گے۔چند سو بیلٹ پیپرز کا بندوبست کرنا عین ممکن تھا۔اب یہ حق اورباطل کی لڑائی ہے۔یہ لڑائی جاری ہے اور جاری رہے گی۔آخر میں فتح حق سچ کی ہوگی ۔آج کا دن جمہوریت کیلئے افسوس کا مقام ہے، آج جمہوری قدروں کی نفی اور قتل کیا گیا ہے۔عمران خان اور ان کی جماعت نے متفقہ فیصلہ کیا ہے وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لیں گے۔جو عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں وہ واضح دکھائی دیں گے۔ اگر ان کو ن لیگ یاپیپلزپارٹی میں جانا ہے تو ان کی صفوں میں چلے جائیں ۔ قوم کو پتا چل جائے گا کون کہاں کھڑا ہے۔