Live Updates

پاکستان پہلی مرتبہ ایک سال کے دوران 50 ارب ڈالرز سے زائد زرمبادلہ کمانے میں کامیاب

پاکستان رواں مالی سال کے 11 ماہ میں ایکسپورٹس کی مد میں ساڑھے 22 ارب ڈالرز، ترسیلات زر کی مد میں 26.7 ارب ڈالر جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاونٹس سے ڈیڑھ ارب ڈالرز سے زائد موصول ہوئے

muhammad ali محمد علی جمعرات جون 23:48

پاکستان پہلی مرتبہ ایک سال کے دوران 50 ارب ڈالرز سے زائد زرمبادلہ کمانے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2021ء) پاکستان پہلی مرتبہ ایک سال کے دوران 50 ارب ڈالرز سے زائد زرمبادلہ کمانے میں کامیاب۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کیلئے برسوں تک کرنٹ اکاونٹ خسارہ معیشت کی بدحالی کا باعث بنا رہا، تاہم تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کی جانب سے 3 سال قبل کرنٹ اکاونٹ خسارے میں کمی اور اپنے اخراجات سے زائد ڈالرز کمانے کیلئے اقدامات کا آغاز کیا گیا، جس کے اب مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ پاکستان پہلی مرتبہ ایک مالی سال کے دوران 50 ارب ڈالرز سے زائد زرمبادلہ کمانے میں کامیاب ہو گیا۔ پاکستان نے رواں مالی سال کے اختتام سے قبل ہی، 11 ماہ کے دوران 50 ارب ڈالرز سے زائد زرمبادلہ کمایا ہے، جبکہ مالی سال کے اختتام پر پاکستان کو کل 55 ارب ڈالرز حاصل ہونے کا امکان ہے۔

(جاری ہے)

پاکستان رواں مالی سال کے 11 ماہ میں ایکسپورٹس کی مد میں ساڑھے 22 ارب ڈالرز، ترسیلات زر کی مد میں 26.7 ارب ڈالر جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاونٹس سے ڈیڑھ ارب ڈالرز سے زائد موصول ہوئے۔

جبکہ امکان ہے کہ رواں مالی سال کے آخری ماہ، جون 2020 کے دوران پاکستان کو ترسیلات اور ایکسپورٹس کی مد میں کل 5 ارب ڈالرز سے زائد موصول ہو سکتے ہیں، یوں پاکستان رواں مالی سال کے اختتام پر پاکستان کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ سرپلس میں رہے گا۔ پاکستان کو موصول ہونے والی ترسیلات زر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ترسیلات میں توقع سے کہیں زیادہ اور ریکارڈ اضافہ ہوا، جو پاکستان کا کرنٹ اکاونٹ سرپلس میں لے جانے کا سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہوا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مئی 2021 میں کارکنوں کی ترسیلات زر کی شاندار کارکردگی جاری رہی اور وہ مسلسل بارہویں مہینے 2 ارب ڈالر سے زائد رہیں جو ریکارڈ ہے۔مرکزی بینک سے جاری اعلامیہ کے مطابق مئی 2021 میں موصول ہونے والی ترسیلات 2.5 ارب ڈالر تھیں جو گذشتہ سال کے اسی مہینے سے 33.5 فیصد زیادہ ہے۔ یہ ترسیلات جولائی تا اپریل مالی سال 21 کے دوران 2.4 ارب ڈالر کی ماہانہ اوسط سے بھی زیادہ تھیں۔

ماہانہ بنیاد پر کارکنوں کی ترسیلات مئی 2021 میں اپریل 2021 کے مقابلے میں 10.4 فیصد گر گئیں۔ یہ کمی متوقع تھی کیونکہ عموما عیدالفطر کے بعد کے زمانے میں ترسیلات کی رفتار آہستہ ہوجاتی ہے۔ چونکہ عید وسط مئی 2021 میں پڑی تھی اور مارکیٹیں ایک ہفتہ پہلے بند ہوگئیں اس لیے اپریل 2021 میں ترسیلات کی کچھ فرنٹ لوڈنگ ہوئی۔ تاہم مئی 2021 میں ہونے والی موسمی کمی مالی سال 2016-2019 کے دوران دیکھی گئی اوسط کمی کے نصف سے نیچے تھی۔

مالی سال 2020 میں خلیجی ممالک میں عید کے بعد کے زمانے میں کووڈ لاک ڈان میں نرمی کی وجہ سے ترسیلات میں بھاری اضافہ ہوا۔ مجموعی بنیاد پر جولائی تا مئی مالی سال 21 کے دوران ترسیلات بڑھ کر 26.7 ارب ڈالر ہوگئیں جو پچھلے برس کی اسی مدت سے 29.4 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 21 کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران ہی ترسیلات زر پورے مالی سال 20 کی سطح سے 3.6 ارب ڈالر زیادہ ہوچکی ہیں۔

جولائی تا مئی مالی سال 21 کے دوران موصول ہونے والی ترسیلات زر زیادہ تر سعودی عرب (7.0ارب ڈالر)، متحدہ عرب امارات (5.6 ارب ڈالر)، برطانیہ (3.7ارب ڈالر)اور امریکہ (2.5ارب ڈالر)سے آئیں۔مالی سال 21 میں کارکنوں کی ترسیلات زر کو ریکارڈ سطح پر لانے میں جو عوامل مددگار رہے ہیں ان میں باضابطہ ذرائع سے رقوم کی زائد آمد کی حوصلہ افزائی کی خاطر حکومت اور اسٹیٹ بینک کے فعال پالیسی اقدامات، کورونا کی وبا کے باعث سرحد پار سفر کا محدود ہونا، وبا کے دوران بہبودی رقوم کی پاکستان کو منتقلی اور بازار مبادلہ میں استحکام کی صورت حال شامل ہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر سے متعلق تازہ ترین معلومات