Live Updates

وفاقی حکومت کرتی ہے وہ بھی پوری نہیں کرتی، سعید غنی

بہتر مفاد میں کام کرتے ہوئے پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنا ہوگا، ایس ایم منیر شیخ عمر ریحان کے اعزاز میں تقریب سیزبیرطفیل، ظفربختاوری، خالدتواب، اختیار بیگ کا خطاب

جمعہ 18 جون 2021 18:16

وفاقی حکومت کرتی ہے وہ بھی پوری نہیں کرتی، سعید غنی
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 جون2021ء) صوبائی وزیر محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ وفاق کا یہ دعوی غلط ہے کہ انہوں نے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے ساتھ مزدوروں کی کم سے کم تنخواہ کے حوالے سے کوئی مشاورت کی ہو بلکہ جو بات وفاقی حکومت کرتی ہے وہ بھی پوری نہیں کرتی،سندھ حکومت نے مزدور کی کم سے کم تنخواہ25 ہزار کی ہے اور اگر صنعتکاروں کو اس پر اعتراض ہے تو بیٹھ کر معاملات حل کئے جاسکتے ہیں،پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت مزدوروں کے بہتر مفاد میں اقدامات کرتی ہے اور ہمیں مہنگائی کے اس دور میں غریب کی تکلیف کا احساس ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ شب یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی)کے سرپرست اعلی اور ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر ایس ایم منیرکی جانب سے کاٹی کے سابق صدر شیخ عمر ریحان کے اعزاز میں تقریب عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

تقریب سے ایس ایم منیر،یو بی جی کے صدر زبیرطفیل، سیکریٹری جنرل ظفربختاوری، شیخ عمرریحان، خالدتواب، اختیار بیگ نے بھی خطاب کیا جبکہ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدرعارف یوسف جیوا،پی ٹی آئی رہنما سمیرمیرشیخ، گلزارفیروز،بریگیڈیئر منصور جنجوعہ، عبدالقادرجعفر،سردار یاسین ملک،افضال آڈھیا،ملک سہیل حسین، لیفٹیننٹ جنرل (ر)معین الدین حیدر،شیخ باسط اکرم،طارق حلیم،نوراحمد خان، فرحان حنیف، فرحان الرحمان، ناہیدمسعود، زین بشیر،ماہین سلمان،رضوانہ شاہد، احمد چنائے، سعیدہ بانو،سلیم الزماں، زبیر چھایا،دانش خان، منظور ملک، عامرطاباجوہ،سلمان طفیل،زاہد اقبال چوہدری،شکیل ڈھینگڑا،ڈاکٹر عمران یوسف، راشد صدیقی،فرخ مظہر، مریم چوہدری، شاہین الیاس سروانہ، اکرام راجپوت،جنیدنقی،مسلم محمدی،امجد پوری اوردیگر مہمان بھی شریک تھے۔

صوبائی وزیر سعید غنی نے کہاکہ سندھ صنعتکاروں کیلئے یہ بات باعث اطمینان ہے کہ سیسی میں پورا سسٹم آن لائن کردیا گیا ہے اور اب صنعتکار مزدوروں کیلئے کنٹری بیوشن آن لائن دے سکیں گے تاکہ مزدوروں کیلئے دیا گیا پیسہ ان پر شفاف طریقے سے خرچ ہوسکے۔انکا کہنا تھاکہ حکومت سندھ کی جانب سے صنعتکاروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر انکے مسائل حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں،کووڈ کی وجہ سے حکومت کو سخت فیصلے کرنے پڑے جن پر بعد میں وفاق اوردیگر صوبوں نے بھی عمل کیا اور آج سندھ حکومت کے ان فیصلوں کی وجہ سے ہی پاکستان دنیا بھر کے ان ممالک میں شامل نہیں جہاں کووڈ کی وجہ سے زیادہ اموات ہوئیں۔

صوبائی وزیر نے عمرریحان کو کاٹی کے بہترین صدرکا اعزاز پانے پرمبارکباد پیش کی۔قبل ازیں ایس ایم منیر نے کہا ہے کہ بحیثیت قوم ہمیں اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کیلئے ملک کے بہتر مفاد میں کام کرتے ہوئے پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنا ہوگا، تاہم حکومت سرمایہ کاروں کو لیونگ پلیئنگ فیلڈ دے،فاٹا اورپاٹا میں زیادہ مراعات دے کر ملک بھرمیں صنعتوں کوتباہی سے دوچار نہ کیاجائے کیونکہ پیداواری لاگت کہیں کم اورکہیں زیادہ ہوگی جس سے حکومت خود بھی مشکات سے دوچار ہوگی اس لئے فاٹا اورپاٹا وی سہولتیں ملک بھر میں یکساں ہونی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت مزدوروں کی تنخواہ دیگر صوبوں کے مساوی رکھے،صنعتکار پہلے ہی مہنگی بجلی اورگیس کی وجہ سے پیداواری عمل بمشکل جاری رکھے ہوئے ہیں اوردیگر ممالک سے مسابقت نہیں کرپارہے ۔انہوں نے کہا کہ عمرریحان بہترین نوجوان قیادت کے طور پر سمانے آئے ہیں اور ناکے دور میں4 ماہ کووڈ کا شکار نہ ہوتے تووہ بحیثیت صدرکاٹی تاریخی 200 پروگرام منعقد کریتے۔

ایس ایم منیر نے یو بی جی کو مرکزی ترجمان گلزارفیروز کی خدمات پرانہیں خراج تحسین یش کیا۔زبیرطفیل نے کہاکہ وفاقی کسی حد تک بہتر ہے مگر اس میں مزید بہتری کی گنجائش ہے تاہم آنے والے وقتوں میں ملکی معیشت ترقی کرے گی۔انکا کہنا تھا کہ خالدتواب کو ڈی جی ٹی او کی جانب سے انصاف ملے گا اور وہ آئندہ چندروز میں ایف پی سی سی آئی کے صدارتی منصب پر براجمان ہونگے۔

زبیرطفیم نے یو بی جی کیلئے بے مثال خدمات ر مرکزی ترجمان گلزارفیروز کو خراج تحسین پیش کیا۔ظفربختاوری نے کہاکہ ہم فیڈریشن چیمبر کا کوئی الیکش نہیں ہارے بلکہ دھونس،جبر، زبردستی، دھاندلی اور بے ایمانی کی بنیاد پر ایف پی سی سی آئی کے اقتدرا پر جولوگ قابض ہوئے اب انکے گھر جانے کے دن آگئے ہیں،ہمیں پاکستان کی سوسائٹی میں بزنس مین کو رول ماڈل کی طرح یش کرنا ہے، یورپ میں لوگ ٹیکس دینے والے بزنس مینوں کوآئیڈیل بناتے ہیں،پاکستان میں ایس ایم منیر اورافتخارعلی ملک کی طرح کے رول ماڈل ہمیں بنانے ہونگے۔

خالد تواب نے کہا کہ یو بی جی کی نئی قیادت کراچی سمیت صوبے بھر میں اپنی گرفت مضبوط کرے،سندھ حکومت نئی اور مئوثر پالیسیاں لائے تاکہ اندرون سندھ میں بھی صنعتی سرمایہ کاری ہوسکے۔شیخ عمرریحان نے کہاکہ میری کاٹی اورفیڈریشن میں پہچان ایس ایم منیر کی وجہ سے ہے اورمجھے فخر ہے کہ وہ میریلیڈر ہیں،صدر کاٹی کے طور پر مجھے زبیرچھایا، میرے نائب صدور اورسابق چیئرمینوں کابھرپورتعاون حاصل رہا۔

انکا کہناتھاکہ کراچی کے بزنس مینوں کو وزیراعظم عمران خان سے شکایات ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے،فاٹا اور پاٹا میں سرمایہ کاروں کو زیادہ سہولتیں دینے سے اسمگنگ میں اضافہ ہوگا اورپاکستان بھر کے صنعتکاروں کو تحفظات لاحق ہونگے۔ مرزا اختیار بیگ نے کہاکہ کورونا وائرس وباکے باوجود پاکستان میں حالات قدرے بہتر ہورہے ہیں اور ایکسپورٹ میں بھی بہتری آرہی ہے لیکن سندھ حکومت کی جانب سے مزدوروں کی کم سے کم تنخواہ25 ہزارمقرر کسی بھی طرح صنعتوں کیلئے سودمند ثابت نہیں ہوگا،اگر صوبے کی صنعتوں کودوسرے صوبوں کے ساتھ مقابلے کا حامل نہ رکھا گیا تو پھر صنعتیں ایک بار پھر دوسرے صبوں میں منتقلی پر راغب ہونگی۔
Live پاکستان میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر سے متعلق تازہ ترین معلومات