سفری پابندیاں ختم، برطانیہ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ سے خارج کر دیا

پاکستان کے علاوہ ترکی، مصر، مالدیپ، سری لنکا، کینیا، عمان اور بنگلہ دیش کو بھی ریڈ لسٹ سے خارج کر دیا گیا، برطانیہ جانے والے پاکستانیوں پر 14 روز کے قرنطینہ کی شرط ختم، فیصلے کا اطلاق 22 ستمبر سے ہو گا

muhammad ali محمد علی جمعہ 17 ستمبر 2021 20:26

سفری پابندیاں ختم، برطانیہ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ سے خارج کر دیا

خبر کی تصحیح

برطانیہ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکال کر ایمبر لسٹ میں شامل کر دیا ایمبر لسٹ میں موجود ہونے پر پاکستان سے جانے والے مسافروں کو 10 روز تک گھر میں قرنطینہ کرنا ہو گا

: برطانیہ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکال کر ایمبر لسٹ میں شامل کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق برطانیہ نے گذشتہ رات پاکستان کو سفری ریڈ لسٹ سے نکالا۔ ریڈ لسٹ سے نکالنے کے بعد پاکستان کو ایمبر لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے۔ ایمبر لسٹ میں موجود پاکستان سے جانے والے مسافروں کو 10 روز تک گھر میں قرنطینہ کرنا ہو گا۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز موصول ہونے والی خبر کے مطابق برطانوی حکومت نے سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ سے پاکستان کا نام خارج کر دیا تھا۔ پاکستان سمیت کل 8 ممالک کا نام ریڈ لسٹ سے خارج کیا گیا ہے۔ پاکستان کے علاوہ ترکی، مصر، مالدیپ، سری لنکا، کینیا، عمان اور بنگلہ دیش ..مزید پڑھیے

سابقہ خبر

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ، اخبارتازہ ترین، 17ستمبر 2021) سفری پابندیاں ختم، برطانیہ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ سے خارج کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے ایک بڑی سفارتی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ پاکستان کے مسلسل دباو کے بعد بالآخر برطانوی حکومت نے سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ سے پاکستان کا نام خارج کر دیا۔ پاکستان سمیت کل 8 ممالک کا نام ریڈ لسٹ سے خارج کیا گیا ہے۔

پاکستان کے علاوہ ترکی، مصر، مالدیپ، سری لنکا، کینیا، عمان اور بنگلہ دیش کو بھی ریڈ لسٹ سے خارج کر دیا گیا۔ ریڈ لسٹ سے پاکستان کے اخراج کے بعد برطانیہ جانے والے پاکستانیوں پر 14 روز کے قرنطینہ کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان سمیت 8 ممالک کو ریڈ لسٹ سے خارج کرنے کے فیصلے کا اطلاق 22 ستمبر سے ہو گا۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ پاکستان کو امید تھی کہ اسے برطانوی حکومت کی جانب سے سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ سے گزشتہ ماہ ہی نکال دیا جائے گا، تاہم 26 اگست کو کیے گئے اعلان میں پاکستان کو ریڈ لسٹ میں برقرار رکھا گیا تھا۔

برطانوی حکومت نے رواں سال 9 اپریل سے پاکستان کو سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں شامل کر رکھا تھا۔ برطانوی حکومت نے کرونا کی ڈیلٹا قسم کے پھیلاو کا گڑھ بننے والے بھارت سے پہلے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کر لیا تھا جس پر برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اور اراکین برطانوی پارلیمنٹ نے شدید ردعمل دیا تھا۔ بعد ازاں برطانوی حکومت نے بھارت کو ریڈ لسٹ سے نکال کر امبر لسٹ میں ڈال دیا تھا، جبکہ پاکستان کو بدستور ریڈ لسٹ میں برقرار رکھا گیا۔

برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین نے اپنی حکومت کے اس فیصلے کو پاکستان کیساتھ امتیازی سلوک قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد برطانوی حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ چونکہ پاکستان نے کرونا سے متعلق ڈیٹا ہی فراہم نہیں کیا، اسی لیے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل رکھا گیا۔ برطانوی حکومت کے اس دعوے کے بعد حکومت پاکستان نے ملک میں کرونا سے متعلق تمام ڈیٹا برطانوی حکومت کو فراہم کیا، تاہم اس اقدام کے باوجود پاکستان کو ریڈ لسٹ میں برقرار رکھا گیا۔

اس تمام صورتحال میں 3 ستمبر کو وزیراعظم عمران خان نے برطانوی سیکرٹری خارجہ سے ہوئی ملاقات میں یہ معاملہ اٹھایا اور موقف اختیار کیا کہ برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو ریڈلسٹ میں رکھنے پر تشویش ہے، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھنے سے دہری شہریت کے حامل افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔