سرحد پار سے 3 دہشتگرد گروپ اب بھی پاکستان کیخلاف دہشتگردی کررہے، عمران خان

دونوں ممالک میں سرمایہ کاری و سیاحت، کھیلوں کے شعبے کو فروغ دینے پر اتفاق، افغانستان میں امن واستحکام پاکستان اور تاجکستان سمیت پورے خطے کے مفاد میں ہے،وزیراعظم عمران خان اور تاجک صدر کی مشترکہ پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 17 ستمبر 2021 22:24

سرحد پار سے 3 دہشتگرد گروپ اب بھی پاکستان کیخلاف دہشتگردی کررہے، عمران ..
دوشنبے(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17ستمبر2021ء) وزیراعظم عمران خان نے تاجک صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سے 3 دہشتگرد گروپ اب بھی پاکستان کیخلاف دہشتگردی کررہے، افغانستان میں امن واستحکام پاکستان اور تاجکستان سمیت پورے خطے کے مفاد میں ہے، سرمایہ کاری و سیاحت، کھیلوں کے شعبے کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور تاجک صدر امام علی رحمان کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال.پاکستان اور تاجکستان کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات، تاجک وفد کی صدر امام علی رحمان جبکہ پاکستانی وفد کی وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں شرکت، مذاکرات میں  پاکستان اور تاجکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کا جائزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

وزیراعظم عمران خان نے تاجک صدر امام علی رحمان کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایس سی او کے کامیاب انعقاد پر صدرامام علی رحمان اور انکے ملک  کو مبارکباد دیتا ہوں، افغانستان کے دوست کی حیثیت سے کہتے ہیں کہ پنجشیر کے معاملے کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے.افغان تاریخ میں یہ فیصلہ کن گھڑی ہے،40 سالہ خانہ جنگی ختم ہوسکتی ہے، خطرات بڑھ بھی سکتے ہیں، تین دہشت گرد گروپ اب بھی افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔

افغانستا ن میں امن واستحکام نا صرف پاکستان اور تاجکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ افغانستان میں جامعیت پر مبنی حکومت سے ہی پائیدار امن ممکن ہے۔ تاجکستان میں شاندار مہمان نواز پر تاجک صدر اور انکی حکومت کے مشکور ہیں۔ اس موقع پر تقریب میں وزیراعظم عمران خان اور تاجک صدر امام علی رحمان نے یادداشتوں پر دستخط کئے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے تاجک ہم منصب نے بھی مفاہمت کی یادداشت پر ستخط کئے۔ پاکستان اور تاجکستان کے سرمایہ کاری و سیاحت، کھیلوں کے شعبے کو فروغ دینے پر اتفاق اور ایم او یو پر دستخط کیے گئے۔ تاجک خبررساں ایجنسی اور اے پی پی کے درمیان اطلاعات کے شعبے میں بھی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔