برطانیہ کی ریڈ سے پاکستان کا نام خارج، پی آئی اے کا برطانیہ کے 2 شہروں کیلئے پروازیں چلانے کا اعلان

22 ستمبر کے بعد قومی ائیرلائن چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے مانچسٹر اور لندن کیلئے پروازیں چلائے گی

muhammad ali محمد علی ہفتہ 18 ستمبر 2021 00:42

برطانیہ کی ریڈ سے پاکستان کا نام خارج، پی آئی اے کا برطانیہ کے 2 شہروں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ، اخبارتازہ ترین، 17ستمبر 2021) برطانیہ کی ریڈ سے پاکستان کا نام خارج، پی آئی اے کا برطانیہ کے 2 شہروں کیلئے پروازیں چلانے کا اعلان۔ تفصیلات کے مطابق 5 ماہ سے سخت سفری پابندیوں کی وجہ سے برطانیہ واپس جانے سے قاصر پاکستانیوں کیلئے پی آئی اے کی جانب سے اہم اعلان کیا گیا ہے۔ قومی ائیرلائن نے برطانیہ کی ریڈ لسٹ سے پاکستان کے نام کا اخراج ہونے کے بعد برطانیہ کے 2 شہروں کیلئے پاکستان سے پروازیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ 22 ستمبر کے بعد قومی ائیرلائن وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے مانچسٹر اور لندن کیلئے پروازیں چلائے گی۔ ان پروازوں کیلئے پی آئی اے کی جانب سے چارٹرڈ طیاروں کا انتظام کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ جمعہ کے روز پاکستان کے مسلسل دباو کے بعد بالآخر برطانوی حکومت نے سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ سے پاکستان کا نام خارج کر دیا۔

(جاری ہے)

پاکستان سمیت کل 8 ممالک کا نام ریڈ لسٹ سے خارج کیا گیا ہے۔

پاکستان کے علاوہ ترکی، مصر، مالدیپ، سری لنکا، کینیا، عمان اور بنگلہ دیش کو بھی ریڈ لسٹ سے خارج کر دیا گیا۔ ریڈ لسٹ سے پاکستان کے اخراج کے بعد برطانیہ جانے والے پاکستانیوں پر 14 روز کے قرنطینہ کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان سمیت 8 ممالک کو ریڈ لسٹ سے خارج کرنے کے فیصلے کا اطلاق 22 ستمبر سے ہو گا۔ واضح رہے کہ پاکستان کو امید تھی کہ اسے برطانوی حکومت کی جانب سے سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ سے گزشتہ ماہ ہی نکال دیا جائے گا، تاہم 26 اگست کو کیے گئے اعلان میں پاکستان کو ریڈ لسٹ میں برقرار رکھا گیا تھا۔

برطانوی حکومت نے رواں سال 9 اپریل سے پاکستان کو سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں شامل کر رکھا تھا۔ برطانوی حکومت نے کرونا کی ڈیلٹا قسم کے پھیلاو کا گڑھ بننے والے بھارت سے پہلے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کر لیا تھا جس پر برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اور اراکین برطانوی پارلیمنٹ نے شدید ردعمل دیا تھا۔ بعد ازاں برطانوی حکومت نے بھارت کو ریڈ لسٹ سے نکال کر امبر لسٹ میں ڈال دیا تھا، جبکہ پاکستان کو بدستور ریڈ لسٹ میں برقرار رکھا گیا۔

برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین نے اپنی حکومت کے اس فیصلے کو پاکستان کیساتھ امتیازی سلوک قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد برطانوی حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ چونکہ پاکستان نے کرونا سے متعلق ڈیٹا ہی فراہم نہیں کیا، اسی لیے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل رکھا گیا۔ برطانوی حکومت کے اس دعوے کے بعد حکومت پاکستان نے ملک میں کرونا سے متعلق تمام ڈیٹا برطانوی حکومت کو فراہم کیا، تاہم اس اقدام کے باوجود پاکستان کو ریڈ لسٹ میں برقرار رکھا گیا۔

اس تمام صورتحال میں 3 ستمبر کو وزیراعظم عمران خان نے برطانوی سیکرٹری خارجہ سے ہوئی ملاقات میں یہ معاملہ اٹھایا اور موقف اختیار کیا کہ برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو ریڈلسٹ میں رکھنے پر تشویش ہے، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھنے سے دہری شہریت کے حامل افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔