جی ڈی اے اور پی ٹی آئی والوں کی ہمارے دروازے پر لائن لگی ہے، ، جس دن ہم نے دروازہ کھولا سب ہمارے ساتھ ہوں گے،سعیدغنی

جلد بازی میں کے سی آر منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا، کے سی آر کے اسٹرکچر پر کس قسم کی ٹرین چلائیں گے پتہ نہیں، چل بھی سکے گی یا نہیں، وزیراطلاعات سندھ

پیر 27 ستمبر 2021 22:37

جی ڈی اے اور پی ٹی آئی والوں کی ہمارے دروازے پر لائن لگی ہے، ، جس دن ہم ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 ستمبر2021ء) سندھ کے وزیر اطلاعات اورپاکستان پیپلز پارٹی کراچی کے صدرسعید غنی نے کہاہے کہ جی ڈی اے اور پی ٹی آئی والوں کی ہمارے دروازے پر لائن لگی ہے، جی ڈی اے میں ہوں یا پی ٹی آئی میں، ہمارے مخالف ہی ہیں، جس دن ہم نے دروازہ کھولا سب ہمارے ساتھ ہوں گے، مسلم لیگ(ن)اور پی ٹی آئی حکومت نے کے سی آر کو اہمیت نہیں دی، کے سی آر کے بڑے منصوبے کی تیاری کے بغیر سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔

سندھ اسمبلی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ جلد بازی میں کے سی آر منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا، کے سی آر کا پہلے اسٹرکچر بنارہے ہیں۔ کے سی آر کے اسٹرکچر پر کس قسم کی ٹرین چلائیں گے پتہ نہیں، چل بھی سکے گی یا نہیں۔

(جاری ہے)

سعید غنی نے کہا کہ جدید ترین کے سی آر کا منصوبہ 2004 میں سوچا گیا، 2006 میں جائیکا نے اس پر کام کیا، وفاقی حکومت نے 2004 میں ماس ٹرانزٹ منصوبہ شروع کرنے کا سوچا تھا، جائیکا نے سروے کیا رپورٹ تیار کی، 2006 سے 2016 تک جائیکا کام شروع نہ کرسکی اور واپس چلی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلی مراد علی شاہ نے 29 جولائی 2016 کو اس منصوبے کو تیز کرنے کیلئے اقدامات شروع کیے، 3 دسمبر 2016 کو وزیراعلی مراد علی شاہ نے کے سی آر منصوبے کیلئے وزیراعظم کو خط لکھا، وزیراعلی سندھ نے خط میں کے سی آر کو سی پیک میں شامل کرنے پر زور دیا، وزیر اعلی سندھ نے لاہور کی اورنج ٹرین کی طرز پر کراچی کے شہریوں کو بھی ٹرانسپورٹ کی جدید سہولت دینے کی بات کی۔

سعید غنی نے کہا کہ کے سی آر منصوبے میں وفاقی حکومت کا 60 فیصد اور صوبائی حکومت کا 40 فیصد حصہ تھا، 2012 میں جائیکا کی کے سی آر منصوبے کی لاگت 2.6 ارب ڈالر تھی، موجودہ حکومت کے دور میں کے سی آر منصوبے سے متعلق حکومت کی ترجیحات بدل گئیں۔سعید غنی نے کہاکہ عدالتی حکم پر سندھ حکومت نے کے سی آر کیلئے بجٹ میں پیسے رکھے، کراچی کا منصوبہ 250 ارب روپے سے کم نہیں ہوتا، کے سی آر کے بڑے منصوبے کی تیاری کے بغیر سنگ بنیاد رکھ دیا گیا، عدالتی حکم پر 6 ارب روپے بجٹ میں شامل کیے۔

انہوں نے کہاکہ پرانی سرکلر ریلوے کی بحالی کیلئے بجٹ میں رقم رکھی، عدالتی حکم پر عملدرآمد کیلئے سیپرا رولز کو نظر انداز کیا، نئی اورماڈرن سرکلر ریلوے پر کوئی کام نہیں ہوسکا۔سعیدغنی نے کہا کہ حکومت نے ایم ایل ون منصوبے کو آگے بڑھایا، سی پیک میں جو کام سندھ حکومت کررہی تھی انہوں نے اپنے کھاتے میں ڈال دیا، مجھے شک ہے کہ وفاقی حکومت نے جو وعدے کیے وہ پورے نہیں ہوں گے۔صوبائی وزیر نے کہاکہ کے سی آر سے متعلق سندھ حکومت نے اپنی ذمہ داریوں سے بڑھ کر کوشش کی، کے سی آر پروجیکٹ کو آگے بڑھانے سے متعلق ہم نے وفاق کو درجنوں خطوط لکھے۔