وفاقی وزیر توانائی کا بجلی کے ترسیلی نظام میں111 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان

یہ سرمایہ کاری آئندہ 3 سال میں این ٹی ڈی سی کے ذریعے کی جائے گی، سرمایہ کاری سے بجلی کی ترسیلی صلاحیت 2023 میں28 ہزار750 میگاواٹ ہوجائے گی۔ وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کا ٹویٹ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 22 اکتوبر 2021 20:19

وفاقی وزیر توانائی کا بجلی کے ترسیلی نظام میں111 ارب روپے کی سرمایہ کاری ..
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 22 اکتوبر2021ء) وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے بجلی کے ترسیلی نظام میں111 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کردیا، یہ سرمایہ کاری آئندہ 3 سال میں این ٹی ڈی سی کے ذریعے کی جائے گی، سرمایہ کاری سے بجلی کی ترسیلی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ این ٹی ڈی سی کے ذریعے بجلی کے ترسیلی نظام میں 111 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی، سرمایہ کاری کی یہ رقم آئندہ 3 سال میں ترسیلی نظام کی بہتری کیلئے خرچ کی جائے گی۔

جس کے ذریعے قومی گرڈ سے بجلی کی ترسیلی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، قومی گرڈ سے بجلی کی ترسیلی صلاحیت 2023 میں 28 ہزار750 میگاواٹ ہوجائے گی اور 2024 میں31 ہزار500 میگاواٹ تک بڑھ جائے گی۔ حماد اظہر نے کہا کہ سال 2018 میں بجلی کی ترسیلی صلاحیت 20 ہزار811 میگاواٹ رکارڈ کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

دوسری جانب گزشتہ روز پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں انکشاف کیا گیا کہ حکومت نے ترسیل کارکمپنیوں سے 1709ارب روپے وصول کرنے ہیں، ڈیسکوز پر لائن لاسز،بجلی چوری کی وجہ سے یہ رقم واجب ادا ہے سب سے زیادہ بجلی بلوچستان میں چوری ہوتی ہے، کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کو شنگھائی الیکٹرک خریدنا چاہتا ہے مگر امریکہ نہیں چاہتا کہ وہ خریدے جس کی وجہ سے معائدہ نہیں ہورہاہے جبکہ حکومتی رکن ثناء اللہ خان مستی خیل نے کمیٹی کوبتایا ہے کہ ہماری حکومتی بجلی چوروںاور نادہنداگان سے کوئی رعایت نہیں کرتی لاہور میں بجلی کابل تین ماہ ادانہ ہونے پر میرے گھر کی بجلی کاٹ دی گئی تھی۔

 آڈٹ حکام نے کہا کہ آئیسکو اور فیسکو میں چوری کم ہوئی ہے باقی ڈیسکوز میںمیں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ چوری کی وجہ سے بجلی کی ترسیل کمپنیوں کو 31ارب روپے کا نقصان ہواہے۔