سعودی عرب کے دفاع کی ضرورت پڑی تو پاکستان ساتھ کھڑا ہوگا، وزیراعظم

سعودی عرب بھی ہمیشہ مشکل ترین وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے، جس کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔ ہماری شرح نمو درست سمت جارہی تھی بدقسمتی سے جیسے ملکوں کی تاریخ میں ہوتا ہے راستہ تبدیل ہوجاتا ہے توہم نے بھی اپنا راستہ کھو بیٹھا،دنیا کے دو بڑی معیشتیں ہمارے پڑوس میں ہیں، ہمارے پاس افغانستان سے ہوتے ہوئے پورا وسطی ایشیا ہے، جانتا ہوں کرکٹ میچ میں پاکستانی ٹیم کی جانب سے پچھاڑنے کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے حوالے سے بات کرنے کا صحیح وقت نہیں ، ہمارے درمیان صرف ایک مسئلہ کشمیر ہے، ہم دو تہذیب یافتہ ہمسائیے اس مسئلے کو حل کرسکتے ہیں، اگر کشمیریوں حقوق دئیے گئے تو ہمارے درمیان کوئی اور مسئلہ نہیں ہے، دونوں ممالک اچھے ہمسائیوں کی طرح رہ سکتے ہیں ، عمران خان کا خطاب

پیر 25 اکتوبر 2021 21:32

سعودی عرب کے دفاع کی ضرورت پڑی تو پاکستان ساتھ کھڑا ہوگا، وزیراعظم
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25اکتوبر2021ء) وزیراعظم عمران خان نے سعودی کاروباری برادری کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے ایک ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کو جب بھی خطرہ ہوگا تو حفاظت کے لیے پاکستان ساتھ کھڑا ہوگا،سعودی عرب بھی ہمیشہ مشکل ترین وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے، جس کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔

ہماری شرح نمو درست سمت جارہی تھی بدقسمتی سے جیسے ملکوں کی تاریخ میں ہوتا ہے راستہ تبدیل ہوجاتا ہے توہم نے بھی اپنا راستہ کھو بیٹھا،دنیا کے دو بڑی معیشتیں ہمارے پڑوس میں ہیں، ہمارے پاس افغانستان سے ہوتے ہوئے پورا وسطی ایشیا ہے، جانتا ہوں کرکٹ میچ میں پاکستانی ٹیم کی جانب سے پچھاڑنے کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے حوالے سے بات کرنے کا صحیح وقت نہیں ، ہمارے درمیان صرف ایک مسئلہ کشمیر ہے، ہم دو تہذیب یافتہ ہمسائیے اس مسئلے کو حل کرسکتے ہیں، اگر کشمیریوں حقوق دئیے گئے تو ہمارے درمیان کوئی اور مسئلہ نہیں ہے، دونوں ممالک اچھے ہمسائیوں کی طرح رہ سکتے ہیں ۔

(جاری ہے)

سعودی انوسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات دیگر تمام تعلقات سے بالاتر ہیں کیونکہ یہ عوام کے عوام سے تعلقات ہیں، پاکستان میں جو بھی حکومت آتی ہے اس کے سعودی عرب کے ساتھ خصوصی تعلقات ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کی دو وجوہات ہیں، پہلی وجہ دو مقدس مساجد ہیں اور ہم سعودی عرب سے بندھے ہوئے، دوسری وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب ہمیشہ مشکل ترین وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے، جس کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔

انہوںنے نکہاکہ انسان اس کو یاد نہیں رکھتا جس نے اچھے وقت میں ساتھ دیا ہو لیکن مشکل وقت میں ساتھ دینے والے کو بھلایا نہیں جاتا۔عمران خان نے کہا کہ سعودی عرب کو جب کبھی سلامتی کا خطرہ ہوگا تو باقی دنیا کے ساتھ کیا ہوتا ہے میں نہیں جانتا لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی حفاظت کے لیے پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں 30 برس سے سعودی عرب سے آرہا ہوں اور میں نے ولی عہد کی صورت میں بہترین قیادت کے تحت تبدیلی دیکھی ہے، وہ سعودی عرب کے مستقبل کی تبدیلی کا عزم رکھتے ہیں اور پاکستان بھی تبدیل ہو رہا ہے۔

انہوںنے کہاکہ ہمارے وزیرخزانہ نے نشان دہی کی ہے کہ 60 کی دہائی میں پاکستان ایشیا میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا، پاکستان وہ ملک تھا جہاں تیزترین صنعت کاری ہو رہی تھی۔پاکستان کی معیشت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ادارے تھے جو ایشیا کے تمام اداروں سے مضبوط تھے، ہماری ایئرلائن پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئر لائن تھی اور اس نے مزید 5،6 ایئر لائنز بنائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شرح نمو درست سمت جارہی تھی لیکن بدقسمتی سے جیسے ملکوں کی تاریخ میں ہوتا ہے راستہ تبدیل ہوجاتا ہے توہم نے بھی اپنا راستہ کھو بیٹھا۔انہوں نے کہا کہ قومیانے کی پالیسی نے ہماری شرح نمو کو ختم کردیا اور اب ہم ماضی کی طرح ہیں جہاں کاروبار کھل رہا ہے، صنعتوں کو مراعات دے رہے ہیں اور ملک کی صلاحیت کو سامنے لا رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں اکثریت 30 سال سے کم عمر افراد کی ہے، اس کا مطلب ہے کہ ترقی کے شان دار مواقع ہیں، ترقی کا اہم ترین عنصر نوجوان ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت ہے، دنیا کے دو بڑی معیشتیں ہمارے پڑوس میں ہیں، ہمارے پاس افغانستان سے ہوتے ہوئے پورا وسطی ایشیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح چین کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں، تاہم ہمیں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے ہیں۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی شان دار فتح کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ گزشتہ شب کرکٹ میچ میں پاکستانی ٹیم کی جانب سے پچھاڑنے کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے حوالے سے بات کرنے کا صحیح وقت نہیں ہے۔

انہوںنے کہاکہ ہمارے درمیان صرف ایک مسئلہ ہے، مسئلہ کشمیر، ہم دو تہذیب یافتہ ہمسایے اس مسئلے کو حل کرسکتے ہیں، یہ سب انسانی حقوق اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بات ہے جس کی ضمانت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد میں 70 یا 72 سال قبل دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کے حقوق دیے گئے تو ہمارے درمیان کوئی اور مسئلہ نہیں ہے، دونوں ممالک اچھے ہمسائیوں کی طرح رہ سکتے ہیں لیکن اس کے فائدے تصور کریں، بھارت کو پاکستان سے وسطی ایشیا تک رسائی ہوگی اور پھر پاکستان کو ان دو بڑی مارکیٹس تک رسائی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ سعودی سرمایہ کاروں پر زور دیتا ہوں کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے ہیں اور تبدیل ہوتے ہیں، جس طرح کاروباری برادری جانتی ہے کہ کامیاب ترین کاروباری افراد مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں اور رسک لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اگر آپ مستقبل کی طرف دیکھیں گے تو پاکستان اس اسٹریٹجک سطح پر ہے جہاں ہر طرف دروازے کھلتے ہیں اور چاہتے ہیں ہمارے سعودی بھائی پاکستان کی اس پوزیشن سے فائدہ اٹھائیں۔

انہوں نے کہا کہ دو منصوبوں کی نشان دہی کی گئی ہے، پہلا راوی سٹی ہے جو ہم مکمل طور پر ایک نیا شہر آباد کرنا چاہتے ہیں اور اس پر کام کر رہا ہوں، جہاں سرمایہ کار آرہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ بہترین وقت ہے کہ راوی سٹی کے منصوبے میں شامل ہوجائیں جو ایک نیا شہر ہے، پھر مرکزی کاروباری اضلاع ہیں جو لاہور کے قلب میں واقع ہیں، جہاں کی آبادی تقریباً 50 لاکھ ہے اور وہاں سرمایہ کاری کا بہترین موقع ہے۔

انہوںنے کہاکہ ایک اور منصوبہ ہے جو بہت دلچسپ ہے جس میں 300 ہزار ایکڑ زرخیز اراضی ہے تاہم پانی نہ ہونے کی وجہ سے زراعت سے محروم ہے حالانکہ دریائے سندھ کے ساتھ ہے، پانی کی دستیابی ہے لیکن ہمیں اس توانائی کی ضرورت ہے تاکہ ہم پانی کو مذکورہ زمین تک پہنچائیں تو یہ علاقہ زراعت کے قابل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ سعودی عرب فوڈ سیکیورٹی پر دلچسپی رکھتی ہے، یہ زرمین دستیا ب ہے، وزرا اس پر بات کر رہے تھے اور اس سے دونوں ممالک کے لیے فائدہ ہوگا۔

عمران خان نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات مختلف سطح پر جائیں، ایک ایسی سطح جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ فوائد بھی سعودی عرب اور پاکستان کے لیے مختلف ہوں گے، اسی لیے اگر ہم مل کر کام کرتے ہیں تو دونوں ممالک کے لیے فائدہ ہوگا۔