Live Updates

بجلی کے مہنگے معاہدوں کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، فواد چودھری

سابق ادوار میں بجلی کے مہنگے معاہدے کیے گئے، ہماری 42 فیصد بجلی امپورٹڈ تیل پر بنتی ہے، اب ہمیں گیس بھی باہر سے منگوانی پڑتی ہے۔ وفاقی وزیراطلاعات ونشریات کی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 28 اکتوبر 2021 18:29

بجلی کے مہنگے معاہدوں کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، فواد چودھری
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اکتوبر2021ء) وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ بجلی کے مہنگے معاہدوں کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، سابق ادوار میں بجلی کے مہنگے معاہدے کیے گئے، ہماری 42 فیصد بجلی امپورٹڈ تیل پر بنتی ہے، اب ہمیں گیس بھی باہر سے منگوانی پڑتی ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ تمام ورکر محنت سے اپنا کام جاری رکھیں گے، کورونا کے بعد عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہوا، تنخواہوں میں اس طرح اضافہ نہیں ہوا جس طرح مہنگائی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ 42 فیصد ہماری بجلی باہر سے منگوائے ہوئے تیل پر بنتی ہے، سابق ادوار میں بجلی کے مہنگے معاہدے کیے گئے، مہنگے معاہدوں کی وجہ سے بجلی کی قیمت بڑھی، اب ہمیں گیس بھی باہر سے منگوانی پڑتی ہے۔

(جاری ہے)

انپوں نے کہا کہ 10ارب ڈالر گزشتہ سال  قرضے کی مد میں ادا کیے، 2008 سے 2018 تک 23 ہزار ارب روپے قرضہ لیا گیا۔ فواد چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ایک بھی تعیناتی ایسی  نہیں کی جو میرٹ سے ہٹ کر ہو، ادارے جلد اپنے پاوں پر کھڑے ہوں گے، ادارے اوپر جائیں گے تو ادارے کے لوگ خوشحال ہوں گے۔

انہوں نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کل قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے، اجلاس میں قومی سلامتی سے متعلق  امورزیر غور آئیں گے، کالعدم جماعت کی غیر قانونی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بات چیت ہوگی۔ دوسری جانب وفاقی وزارت خزانہ نے رواں مالی سال کے پہلے3 مہینوں کی آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی، جس کے تحت پچھلے مہینے ستمبر میں مہنگائی کی شرح 8.98 فیصد ریکارڈ کی گئی، مہنگائی میں اضافے کی وجہ ڈالرکے ریٹ اور موسمیاتی عوامل میں تبدیلیوں کے باعث ہے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت بڑھنے سے مہگائی مزید بڑھ سکتی ہے، لیکن اگر عالمی مارکیٹ میں استحکام رہا تو سالانہ مہنگائی کم ہوسکتی ہے۔

حکومت نے ابھی تک عالمی مارکیٹ میں مہنگائی کا بوجھ عوام کو منتقل نہیں کیا،رواں مالی سال کی پہلے تین مہینوں میں مالیاتی خسارہ گیارہ فیصد بڑھ کر 462 ارب روپے ہوگیا۔
Live کرونا کی نئی قسم اومیکرون کا پھیلاو سے متعلق تازہ ترین معلومات