لاپتہ افراد کی ذمہ داری وزیراعظم اور کابینہ پر آتی ہے

ریاست میں احساس نظر نہیں آتا، لاپتہ افراد کی فیملیز سڑکوں پر رُل رہی ہوتی ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ 1 دسمبر 2021 14:11

لاپتہ افراد کی ذمہ داری وزیراعظم اور کابینہ پر آتی ہے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ یکم دسمبر 2021ء) : اسلام آباد ہائیکورٹ نے لا پتہ صحافیو بلاگر مدثر نارو کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دئے اور کہا کہ لاپتہ افراد کی ذمہ داری وزیراعظم اور کابینہ پر آتی ہے، اور کیوں نہ ریاست کی بجائے معاوضے کی رقم وزیراعظم اور کابینہ ارکان ادا کریں؟ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتہ صحافی و بلاگر مدثر نارو کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔

وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری ہائیکورٹ میں پیش ہوئیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شیریں مزاری سے کہا کہ آپ کے اندر احساس ہے، لیکن ریاست میں احساس نظر نہیں آتا، لاپتہ افراد کی فیملیز سڑکوں پر رل رہی ہوتی ہیں ، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کے بنیادی حقوق کا خیال کرے ، ریاست کا ری ایکشن اس کیس میں افسوس ناک ہے، ریاست ماں کی جیسی ہے ، اس کو اسی طرح نظر آنا چاہئیے، ماں کی طرح ان کو لے کر جائیں اس فیملی کو مطمئن کریں، اس کا بچہ بھی پیدا ہوا ہے ، اس کی بیوی بھی دنیا چھوڑ گئی، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ بچے اور اس کے والدین کو مطمئن کرے، وزیراعظم اور وفاقی کابینہ اس متاثرہ فیملی کو سنیں اور مطمئن کریں۔

(جاری ہے)

دوران سماعت وفاقی وزیر شیریں مزاری نے عدالت میں کہا کہ میں مختلف اتھارٹیز سے رابطے میں ہوں ان کو کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں، جبری گمشدگی کے خلاف آمنہ جنجوعہ کے ساتھ ملکر وزیراعظم عمران خان احتجاج بھی کرتے رہے ہیں، مدثر نارو کی فیملی کے ساتھ ملنے میں وزیراعظم کو کوئی مسئلہ نہیں ہے، فیملی کو ماہانہ بنیادوں پر معاوضہ دینے کو پراسس کر رہے ہیں۔

شیریں مزاری نے کہا کہ بیان حلفی ابھی تک موصول نہیں ہوا۔ اس کے مطابق اخراجات کی ادائیگی کے لیے پراسیس کریں گے، وزیراعظم ان کو ضرور سنیں گے، پہلے ہم چاہتے ہیں کہ ان کے لیے اخراجات کی ادائیگی کا بھی پراسیس کر لیں، لاپتہ شخص کے کمسن بچے اور دادی کی وزیراعظم سے ملاقات کروائی جائے گی، اس سے پہلے آئندہ ہفتے تک ان کو معاوضہ کی رقم کی ادائیگی کا پراسیس مکمل کرنے دیں، ہماری حکومت جبری گمشدگی کو سنگین جرم سمجھتی ہے، جمہوریت میں کسی کو لاپتہ کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیوں نا ایک قانون بنایا جائے کہ جو ذمہ دار ہے اس سے معاوضہ لیا جائے، اگر کوئی 2002ء میں لاپتہ ہوا تو کیوں نا اس وقت کے ذمہ داروں کو جرمانے کیے جائیں، اس وقت کے چیف ایگزیکٹو کو ذمہ دار ٹھہرا کر اسے ازالے کی رقم ادا کرنے کا کیوں نہ کہا جائے؟ کسی نہ کسی کو تو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا چاہئیے، ہماری آدھی زندگی غیر جمہوری حکومتوں میں گزری اور یہ انہی کا کیا کروایا ہے، ابھی تو پولیس ، منسٹری والے ہر ایک کوئی فری ہینڈ ملا ہوا ہے ، اس میں صرف اسٹیٹ ایکٹر نہیں غیر ریاستی عناصر بھی آتے ہیں، تمام ایجنسیاں وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں، الزام درست ہو یا نا ہو ذمہ داری ریاست کی ہے کہ وہ متاثرہ فیملی کو مطمئن کرے، تین سال سے وہ در بدر پھیر رہے ہیں ، اس سلسلے کو اب رکنا چاہئیے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ وزیراعظم کے پاس لے کر جائیں، کابینہ ارکان سے ملاقات کروائیں، آپ کوشش کریں کہ یہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد مطمئن ہو کر واپس آئیں، لاپتہ افراد کی ذمہ داری تو وزیراعظم اور کابینہ ارکان پر آتی ہے، ریاست کی بجائے معاوضے کی رقم وزیراعظم اور کابینہ ارکان کیوں نہ ادا کریں؟ تاکہ یہ معاملہ ہی ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکے۔ عدالت نے حکومت کو 13 دسمبر تک مدثر نارو کی فیملی کو مطمئن کرنے کا حکم دیا۔ ہائیکورٹ نے شیریں مزاری سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کردی۔