ثاقب نثارکی مبینہ آڈیو کا معاملہ، اٹارنی جنرل نے تحقیقات کمیشن کمیشن کی تشکیل کی مخالفت کر دی

کمیشن تو اس وقت بنے جب کوئی گرائونڈ موجود ہو،جن لوگوں کے کیسز ہیں وہ اگر کوئی آڈیو نہیں لاتے تو ہم کیوں کریں،جسٹس اطہر من اللہ ٓعدالتوں کو متنازعہ کیا جا رہا ہے، عدلیہ تحقیقات کروا کر یہ سلسلہ روک سکتی ہے،درخواست گزار

بدھ 8 دسمبر 2021 22:53

ثاقب نثارکی مبینہ آڈیو کا معاملہ، اٹارنی جنرل نے تحقیقات کمیشن کمیشن ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 08 دسمبر2021ء) اسلام آباد ہائیکورٹ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر سماعت کی۔ اٹارنی جنرل درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر معاونت کیلئے عدالت میں پیش ہوئے ۔دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں یہ عدالت کس کو تحقیقات کیلئے ہدایت دی جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی گئی ہے، یوں لگتا ہے یہ پراکسی درخواست ہے جو انہوں نے دائر کی ہے ،ایسا تاثر نہیں ہونا چاہیے کہ درخواست گزار کسی اور کا کیس لڑ رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایک اور وزیراعظم تھا جسے مبہم عدالتی حکم پر پھانسی بھی دی گئی، بینظیر کی حکومت واپس بحال نہیں کی جاتی جبکہ میاں نوازشریف کی حکومت بحال کر دی جاتی ہے ماضی میں بریف کیس بھر کر بھی دیئے جاتے رہے ،درخواست گزار نے ماضی میں جانا ہے تو درخواست میں ترمیم کریں۔

(جاری ہے)

کیوں 2017 میں صرف جائیں ذوالفقار علی بھٹو تک جاتے ہیں جلا وطن کرنے کی سہولت ایک وزیراعطم کو دی جاتی ہے تو بھٹو کو کیوں نہیں کبھی کبھی ہمیں پتہ نہیں ہوتا ہمیں کوئی اور استعمال کر رہا ہے ،یہ عدلیہ کو ہراساں کرنے اور دباؤ ڈالنے کا سیزن ہے ،کبھی کوئی آڈیو، کبھی کوئی بنایا گیا ڈاکومنٹ ریلیز کیا جاتا ہے، درخواست گزار نے 2017 کے واقعات کا ذکر کیا ہے یہ بھی پتہ لگانا چاہیے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو کیوں ہٹایا گیا رقم سے بھرے ہوئے سوٹ کیس کسے جاتے رہی جو بھی زندہ لوگ ہیں ان سب کا احتساب کر لیتے ہیں صرف چٴْن کر ایک وزیراعظم کیلئے پراکسی بن کر کیوں لوگ عدالت آرہے ہیں ہزاروں لوگوں کو نوکری سے نکال دیا گیا انکی کوئی ویڈیو نہیں آئی یہ پراکسی جنگ ہے ایک شخص کیلئے بار بار ویڈیوز آ رہی ہیں ،ہر کوئی آج کہہ رہا ہے کہ میرے پاس دو ویڈیوز ہیں چار ویڈیوز ہیں سینکڑوں لوگوں کی زمینوں پر قبضہ ہو جاتا ہے اسکی کوئی ویڈیو نہیں آئی جس پر عدالت نے کہا کہ بارز کا عدلیہ کی آزادی کیلئے بڑی جدوجہد ہے، آج صلاح الدین کو سنتے ہیں جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آج یوم حساب ہے وکلاء،ڈسٹرکٹ کورٹ کے ججز کے کپڑے پھاڑ دیتے ہیں پھر ایک مذمت جاری کر دی جاتی ہے ۔

بارنے ہی سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر چیف جسٹس کے خلاف نعرے لگائے جس پر صلاح الدین نے کہا اٹارنی جنرل ہر کیس کا ذمہ دار بار ایسوسی ایشن کو ٹھہرا رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے عدلیہ اور ججز کے خلاف بیانات نکال کر دیکھ لیں۔یہ توجہ ہٹانے کیلئے کہا جاتا ہے کہ 70 سال کا احتساب کریں یا کسی کا نہ کریں جس پر عدالت نے کہا اگر ہم آڈیو تحقیقات کی درخواست قابل سماعت بھی قرار دیں تو کیا ہوگا جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ماضی کے تمام معاملات کو بھی بحث کیلئے پارلیمنٹ بھیج دیں ایک سزا کیخلاف اپیل اس ہائیکورٹ میں چل رہی ہے اٴْس ایک اپیل کیلئے پوری عدلیہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔

جس پر درخواست گزار صلاح الدین ایڈووکیٹ نے کہا جن کے کیسز ہیں وہ عدالت نہیں آئے میرا موقف یہ ہے عدالتوں کو متنازعہ کیا جا رہا ہے عدلیہ تحقیقات کروا کر یہ سلسلہ روک سکتی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آج کل ایڈوانس ٹیکنالوجی ہے کوئی بھی آڈیو یا ویڈیو بن سکتی ہے کوئی بھی آڈیو بنا کر کہہ دے اس پر تحقیقات کریں اس آڈیو پر تحقیقات شروع کردیں تو زیر التواء اپیلوں پر کیا اثر پڑے گا جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں یہی کہہ رہا ہوں ساری چیزیں گھوم پھر کر ایک اپیل تک جاتی ہیں یہ پراکسی وار لڑی جارہی ہے اور صرف ایک کیس کیلئے ہیمیں خود ترمیمی درخواست دائر کرنے کو تیار ہوں ماضی سے احتساب کیا جائے جس پر صلاح الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ اٹارنی جنرل حکومت سے کہہ کر ماضی کا جو احتساب کرنا ہے کر لیں اس کیس سے ماضی کے کیسزجوڑنے کی کیوں ضرورت پڑ رہی ہے بیان حلفی کا کیس اسی عدالت میں زیر التوا ہے ا،ٓڈیو کا معاملہ بھی قابل سماعت ہو سکتا ہے جس پر عدالت نے کہا کہ بیان حلفی کا معاملہ الگ ہے وہ بیان حلفی دینے والے خود عدالت آئے ہیں آپ جس آڈیو کی بات کر رہے ہیں اس پر آپ کو بھی یقین نہیں کہ ٹھیک ہے معاملے پر کمیشن تو اس وقت بنے جب کوئی گرائونڈ موجود ہو،جن لوگوں کے کیسز ہیں وہ اگر کوئی آڈیو نہیں عدالت لاتے تو ہم کیوں کریں کوئی آڈیو کی اونر شپ لینے والا ہی بتائیں آپ کے پاس گرائونڈ کیا ہے اس درخواست کی جس کے جواب میں اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست ترمیم کر کے لائیں میں سارا معاملہ پارلیمنٹ لیکر جاؤں گا۔

درخواست میں ماضی کے معاملات پر بھی تحقیقات کی استدعا شامل کریں۔ عدالت نے درخواست گزار سے مکالمہ کیا کہ اٹارنی جنرل نے آپ کو بڑی آفر کی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا بنیادی اعتراض یہی ہے کہ یہ پراکسی پٹیشن ہے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل مکمل نہ ہو سکے ہائیکورٹ نے سماعت 24 دسمبر تک ملتوی کر دی