محکمہ موسمیات نے مری میں شدید برفباری کا الرٹ جاری کر دیا

اس مرتبہ 7 جنوری کو ہونے والی برفباری سے زیادہ برفباری کی پیش گوئی

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری بدھ 19 جنوری 2022 21:53

محکمہ موسمیات نے مری میں شدید برفباری کا الرٹ جاری کر دیا
مری(اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین، 19 جنوری 2022) محکمہ موسمیات نے مری میں شدید برفباری کا الرٹ جاری کر دیا، اس مرتبہ 7 جنوری کو ہونے والی برفباری سے زیادہ برفباری کی پیش گوئی۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات نے ویک اینڈ پر مری میں شدید برفباری کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق جمعہ کی شب ملک بھر میں بارشوں کا نیا سلسلہ داخل ہو گا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں بارش اور مری میں شدید برف باری کا امکان ہے جو پیر تک جاری رہ سکتی ہے۔اس ضمن میں ضلعی انتطامیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہونے والی متوقع برفباری کے باعث مری میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس مرتبہ 7 جنوری کو ہونے والی برفباری سے زیادہ برفباری کا امکان ہے۔

(جاری ہے)

محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے بعد ضلعی انتظامیہ نے تمام متعلقہ محکموں کو تیار رہنے کی ہدایات بھی جاری کردی ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل محکمہ موسمیات کے الرٹ کے باوجود عوام کی بڑی تعداد نے مری کا رخ کیا تھا، جس کے نتیجے میں مری میں متعدد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔علاوہ ازیں انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے بھی سانحہ مری پیش آیا۔

جس کے حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ سانحہ مری کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں غفلت و کوتاہی کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات پر 15 افسران کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام اپنے فرائض کا ادراک کرنے سے قاصر رہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کو عہدے سے ہٹا کر انضباطی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ سی پی او راولپنڈی، سی ٹی او راولپنڈی، ڈی ایس پی ٹریفک اور اے ایس پی مری کو ان کے عہدوں سے ہٹا کرانضباطی کارروائی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کمشنر راولپنڈی کو عہدے سے ہٹا کر معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے جب کہ تمام افسران کو معطل کرکے ان کے خلاف انضباطی کارروائی کا حکم بھی دیا ہے۔