دبئی میں سیلابی صورتحال کی وجہ مصنوعی بارش؟

DW ڈی ڈبلیو ہفتہ 20 اپریل 2024 18:20

دبئی میں سیلابی صورتحال کی وجہ مصنوعی بارش؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 20 اپریل 2024ء) اس ہفتے متحدہ عرب امارات میں طوفانی بارش کے دوران بدھ کے روز گزشتہ 75 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ اس دوران بالخصوص دبئی میں سیلابی صورتحال دیکھی گئی، جس کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا، پروازیں منسوخ ہوئیں اور املاک کو نقصان پہنچا۔

اس خطے میں اس غیر معمولی موسمی صورتحال کے بعد سوشل میڈیا پر کئی صارفین کی جانب سے بارش کے اس شدید سلسلے کی مختلف وجوہات پیش کی جا رہی ہیں۔

انہیں میں سے ایک نے ایکس پر تبصرہ کیا کہ یہ بارشیں دراصل کلاؤڈ سیڈنگ یا مصنوعی طور پر بارش کرانے کے عمل میں کسی غلطی کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح انسٹاگرام پر بھی ایک صارف نے استفسار کیا کہ کیا کلاؤڈ سینڈنگ متحدہ عرب امارت کے سب سے گنجان آباد شہر دبئی میں سیلابی صورتحال کی وجہ ہو سکتی ہے؟ اس کے جواب میں کئی صارفین کا کہنا تھا کہ یہ کا اندازہ درست ہے۔

(جاری ہے)

لیکن ڈی ڈبلیو کی جانب سے فیکٹ چیکنگ کے بعد اس رائے سے مختلف نتیجہ سامنے آیا ہے۔

کلاؤڈ سیڈنگ ہے کیا؟

کلاؤڈ سیڈنگ مصنوعی طور پر بارش کرانے کی ایک تکنیک ہے، جس میں ہوائی جہاز کے ذریعے بادلوں میں ناقابل محلول نمک کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے، جو بخارات کو بوندوں کی شکل میں تبدیل کرنے کے عمل میں تیزی لے آتا ہے۔

اس تکنیک کو خشک علاقوں میں مصنوعی طور پر بارش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں واقع 'نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی' (این سی ایم) کلاؤڈ سیڈنگ پر 1990 کی دہائی سے تحقیق کر رہا ہے۔ ابو ظہبی میں اس تکنیک کا استعمال بارش اور نتیجتاﹰ میٹھے پانی کی فراہمی میں اضافے کے لیے کیا جاتا ہے۔

دریں اثنا، حالیہ بارشوں کے دوران سٹیلائٹ کے ذریعہ لی گئی تصاویر میں جزیرہ نما عرب کے جنوب مشرقی حصے میں گہرے بادل دیکھے گئے۔

پھر اگر ان دنوں اس علاقے میں کلاؤڈ سیڈنگ کو بروئے کار لایا گیا ہو گا، تو یہ موسمی صورتحال اس عمل کے لیے مناسب رہی ہو گی۔

لیکن کیا واقعی متحدہ عرب امارات میں حالیہ بارشیں کلاؤڈ سیڈنگ ہی کا نتیجہ ہیں؟

'امکانات صفر کے قریب'

اس حوالے سے امریکی جریدے بلوم برگ کی ابتدائی رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ اس خطے میں این سی ایم کی جانب سے کلاؤڈ سیڈنگ کے باعث بارشوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم متحدہ عرب امارات میں حکام نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔

اس بارے میں مزید تفصیلات کے لیے ڈی ڈبلیو نے این سی ایم سے رابطہ کیا تھا، لیکن اس مضمون کی اشاعت تک اس کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

تاہم جرمنی میں واقع یونیورسٹی آف ہوہن ہائیم کی ایک ریسرچ ٹیم نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کے دوران اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔

محققین کی یہ ٹیم این سی ایم کے ساتھ ایک مشترکہ پراجیکٹ پر کام کر رہی ہے، اور اس کے ایک رکن اولیور برانچ نے ڈی ڈبلیو کو اپنے جواب میں لکھا کہ یہ سوچنا کہ کلاؤڈ سیڈنگ اتنی بارش کی وجہ بنے گی، غیر حقیقت پسندانہ ہو گا۔ ان کا مزید کہنا تھا، "دبئی میں سیلابی صورتحال کے کلاؤڈ سیڈنگ سے منسلک ہونے کے امکانات صفر کے قریب ہیں۔"

بلوم برگ اور دیگر میڈیا اداروں نے جب اور ماہرین کی اس بارے میں رائے لی، تو ان کا بھی یہی کہنا تھا۔

کلاؤڈ سیڈنگ نہیں تو پھر کیا ماحولیاتی تبدیلیاں؟

اگر کلاؤڈ سیڈنگ نہیں، تو پھر کیا ان بارشوں کی وجہ ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد صارفین کی یہی رائے ہے۔

ان میں سے ایک نے لکھا، "گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتائج خطرناک ہیں اور ان سے کوئی شہر بچ نہیں پائے گا۔"

اسی طرح ایک اور صارف نے ماحولیاتی تبدیلیوں کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ دبئی میں سیلابی صورتحال انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے۔

ڈی ڈبلیو نے ان دعووں کے حوالے سے بھی تحقیق کی اور نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ یہ معاملہ کچھ پیچیدہ ہے۔

اکثر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں کا تعلق ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہے۔ ان میں سے لندن کے امپیریل کالج سے وابستہ فریڈرک اوٹو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "اکثر اوقات شدید موسمی صورتحال کے پیدا ہونے میں گلوبل وارمنگ کا عمل دخل ہوتا ہے۔

"

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کے دوران بالخصوص دبئی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عین ممکن ہے وہاں اس قدر تباہ کن بارشوں کی وجہ گلوبل وارمنگ ہی ہو۔

تاہم، اس معاملے میں کئی سائنسدان اس بات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ شدید موسمی صورتحال ہر دور میں رونما ہوئی ہیں اور مستقبل میں بھی ہوتی رہیں گی۔

م ا ⁄ ع ب (جان ڈی والٹر)