
مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستوں کی سماعت منگل 17جون تک ملتوی
پیر 16 جون 2025 17:14
(جاری ہے)
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ کیا مخصوص نشستیں خالی چھوڑی جا سکتی تھیں؟ آپ اس نکتے پر بھی ہماری معاونت کریں۔
جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ وہ پہلے اکثریتی فیصلہ پڑھنا چاہتے ہیں۔ فیصل صدیقی نے موقف اپنایا کہ ان کا اور پی ٹی آئی کا مفاد ایک تھا، اس لیے مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو ملنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ تاہم جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا جب آپ کا اور پی ٹی آئی کا آئین اور پارٹی کا ڈھانچہ مختلف ہے تو مفاد ایک کیسے؟ فیصل صدیقی نے موقف اپنایا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے میں کہا کہ حالات ایسے تھے کہ ممبران کو سنی اتحاد کونسل میں جانا پڑا۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا کسی امیدوار نے خود ان حالات کا تذکرہ کیا؟ وکیل نے کہا کہ اکثریتی فیصلے میں یہ نکتہ اہم نہیں تھا کہ کسی فریق نے خود عدالت سے رجوع کیا یا نہیں۔ مخصوص نشستیں ممبران کے تناسب سے ملتی ہیں، مگر آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد نے اس میں تنازعہ پیدا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں نے مکمل انصاف کا تقاضہ کیا اور ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ کیا آزاد امیدواروں کے حصے کی نشستوں کو تین جماعتوں میں بانٹا جا سکتا ہے؟ اور کیا پی ٹی آئی نے بطور جماعت انتخابات لڑے یا نہیں؟ اس نکتے پر بینچ کی توجہ دلانا ضروری ہے۔ جسٹس امین الدین نے کہا کہ یہ تو عدالت کے سامنے سوال ہی نہیں تھا۔ فیصل صدیقی نے کہا کہ اکثریتی فیصلے نے اس نکتے کو طے کیا۔ جسٹس مندوخیل نے کہا کہ فیصلہ 13 جنوری کو آیا جبکہ کاغذات نامزدگی دسمبر میں جمع ہوئے تب بھی کچھ امیدواروں نے آزاد حیثیت ظاہر کی تھی۔ جسٹس مظہر نے ریمارکس دیئے کہ انتخابی نشان لے کر بھی پی ٹی آئی بطور جماعت موجود تھی۔ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر 2023ء کو پی ٹی آئی سے انتخابی نشان واپس لے لیا تھا۔ جسٹس امین الدین نے کہا کہ آپ کا تنازع یہ ہے کہ آزاد امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل کو جوائن کر لیا۔ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ میں سنی اتحاد کونسل یا پی ٹی آئی کا حامی نہیں، میں تو صرف اکثریتی عدالتی فیصلے کی حمایت کر رہا ہوں۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ ناانصافی کا مداوا مخصوص نشستوں کے فیصلے نے کیا۔ جسٹس مندوخیل نے کہا کہ جب ریٹرننگ افسر کو اختیار نہیں کہ کسی امیدوار کو آزاد قرار دے تو سپریم کورٹ کو کیسے ہے؟ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ اس کا جواب جسٹس امین الدین اور جسٹس مندوخیل کے ایک فیصلے میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیارہ ججز نے کہا کہ پی ٹی آئی ارکان کو آزاد قرار دینے کا فیصلہ غیر قانونی تھا۔ جسٹس مندوخیل نے وضاحت کی کہ یہ اتفاق صرف ان ارکان تک تھا جنہوں نے پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی اور پارٹی ٹکٹ دیے تھے۔ صرف 14 ایسے امیدوار تھے جنہوں نے پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کرایا۔ جسٹس مندوخیل نے کہا کہ ہم نے فرض کیا کہ کاغذات جمع ہوئے ہوں گے اور وہ بعد میں ادھر ادھر ہو گئے، اس لیے 39 ارکان کو تصور کیا۔ وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ قاضی فائز عیسی اور جسٹس یحیی آفریدی کے درمیان تعداد پر اختلاف تھا۔ جسٹس امین الدین نے کہا کہ ایک امیدوار چار چار کاغذات بھی جمع کرا سکتا ہے۔ فیصل صدیقی نے کہا کہ 2 فروری کے الیکشن کمیشن آرڈر میں آزاد ارکان کو پی ٹی آئی کا رکن نہیں مانا گیا۔ جسٹس مندوخیل نے وضاحت کی کہ یہ آرڈر تو صرف ایک رکن کے لیے تھا، لیکن وکیل نے کہا کہ اسی آرڈر کو دیگر ریٹرننگ افسران نے باقی ارکان پر بھی لاگو کیا۔ جسٹس مندوخیل نے سوال کیا کہ جب نشان نہیں ملا تو آپ نے لسٹ میں شامل ہونے کا معاملہ چیلنج کیا؟ وکیل نے کہا کہ متاثرہ فرد کو تھوڑا فائدہ تو دیں جس پر جسٹس مندوخیل نے کہا آپ ہمارے پاس نہیں آئے، پھر بھی فائدہ دیا، اگر آتے تو ہم کیا نہ کرتے۔ ہم نے تصور کیا کہ پی ٹی آئی کے 39 امیدواران نے کسی کو جوائن ہی نہیں کیا۔ جسٹس مندوخیل نے کہا کہ اکثریتی فیصلے میں 41 ارکان کو کسی پارٹی کا امیدوار نہیں قرار دیا گیا۔ اس کا مطلب ہے الیکشن کمیشن نے 41 کی حد تک درست کیا اور 39 کی حد تک غلطی کی۔ تمام ججز نے فیصلہ دیا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں۔ صرف ایک سوال تھا کہ کیا سنی اتحاد نشستوں کی حقدار ہے یا نہیں۔ جو پارٹی الیکشن میں حصہ نہ لے، کوئی سیٹ نہ جیتے وہ مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں۔ البتہ کسی رکن کو کسی پارٹی کو جوائن کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں پندرہ دن دینے اور پی ٹی آئی ارکان کی تعداد پر اختلاف تھا۔ اکثریتی ججز نے تین دن کے وقت کو بڑھا کر پندرہ دن کر دیا، جس پر جسٹس مندوخیل نے کہا کہ وقت میں اضافہ تب ہوتا ہے جب وقت استعمال نہ ہوا ہو، بعد میں نہیں۔ فیصل صدیقی نے کہا آرٹیکل 254 ایسے لگتا ہے کہ ہمارے لیے ہی ڈرافٹ ہوا ہے۔ جسٹس مظہر نے کہا کہ مقدمے کا فیصلہ اپنے حالات و واقعات کی روشنی میں ہوتا ہے۔ فیصل صدیقی نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ آرٹیکل 254 اس کو تحفظ دیتا ہے یا نہیں جسے غلط طور پر کسی پارٹی میں شامل قرار دیا گیا۔ جسٹس مندوخیل نے واضح کیا کہ ہم نے تصور کیا کہ 39 ارکان نے کسی کو جوائن نہیں کیا۔ دوران سماعت خیبرپختونخوا حکومت اور سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کی جانب سے کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی گئی۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے موقف اپنایا کہ ہم پشاور ہائیکورٹ میں مرکزی کیس اور پھر سپریم کورٹ میں فریق تھے، ہمیں نظر ثانی کیس میں بھی فریق بنایا جائے۔ اٹارنی جنرل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ میں یہ مرکزی کیس میں فریق نہیں تھے، سپریم کورٹ میں فریق بنے۔ عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت اور سپیکر کے پی اسمبلی کو فریق بنانے کر درخواست پر نوٹس جاری کر دیئے۔ دوران سماعت فیصل صدیقی نے موقف اپنایا ہم نے بینچ پر اعتراضات عائد کیے تھے جن کو مسترد کیا گیا، اعتراضات مسترد کرنے کی تفصیلی وجوہات نہیں دی گئیں۔ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے شاید اعتراضات پر تفصیلی وجوہات جاری ہو چکی ہوں۔ فیصل صدیقی نے کہا کہ تفصیلی وجوہات جارج ہونے پر نظر ثانی درخواست دائر کریں گے۔ دوران سماعت خیبرپختونخوا حکومت اور سپیکر کے پی اسمبلی نے کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کردی جس پر عدالت نے نوٹس جاری کر دیے۔بعدازاں عدالت نے سماعت منگل 17جون تک ملتوی کر دی۔ سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی منگل کو بھی دلائل جاری رکھیں گے۔مزید قومی خبریں
-
مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کا دورہ منسوخ کر دیا، تین دہائیوں پرانے تعلقات میں تبدیلی
-
پی آئی اے نے سیالکوٹ سے اپنا فضائی آپریشن لاہور ایئرپورٹ پر منتقل کر دیا
-
سیالکوٹ‘ عمرہ کیلئے سعودی عرب جانے والے مسافر کے پیٹ سے کوکین سے بھرے 40 کیپسول برآمد
-
دل میں اللہ کے خو ف سے انسان برائیوں سے نجات پاسکتا ہے۔ گورنرسندھ
-
منگل اور بدھ کی رات دریائے سندھ میں ممکنہ سیلاب کا خدشہ ہی: وزیراعلی سندھ
-
دریاں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال
-
9 مئی کیسز، اعجازچوہدری کا سزا معطلی کیلئے لاہورہائیکورٹ سے رجوع
-
چوہدری شافع حسین کا گجرات کے سیلاب زدہ علاقوں کا تفصیلی دورہ،سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم کیں
-
بھارت نے بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کی جس سے ہمیں نقصان پہنچا‘رانا تنویر حسین
-
لڈن روڈ پر ٹرالر اور کیری ڈبہ میں تصادم، دو افراد جانبحق، 9 شدید زخمی
-
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ضلع پشاور کی ترقی کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دے دی،نوٹیفکیشن جاری
-
سی فوڈ انڈسٹری کیلیے خوشخبری ، پاکستان کو امریکا میں مچھلی برآمدات کی اجازت مل گئی
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.