اسرائیلی فوجیوں میں خود کشی کے رجحان میں اضافہ ، دو ہفتوں میں 5 نے اپنی جان لی

پیر 21 جولائی 2025 12:05

تل ابیب (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 جولائی2025ء) ساحر لدھیانوی کے مصرع ’’ ظلم پھر ظلم ہے ، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ‘‘ کے مصداق غزہ میں مظالم کی انتہا کردینے والے اسرائیلی فوجیوں میں اب خود کشی کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے اور گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کم از کم 5 اسرائیلی فوجیوں نے اپنی جانیں لے لی ہیں، جن میں غزہ اور دیگر فعال تنازعات والے علاقوں میں جنگجوؤں کی توسیع کے بعد حال ہی میں فارغ کیے گئے فوجی اور ریزروسٹ شامل ہیں۔

رشیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی مسلح افواج کی صفوں میں خودکشیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 2023 کے آخر تک سات فوجیوں نے خودکشی کی، جس کے بعد 2024 کے دوران ایسے 21 واقعات کی تصدیق ہوئی اور اس سال کے آغاز سے کم از کم ایسے 20 واقعات ہو چکے ہیں۔

(جاری ہے)

تازہ ترین کیس، جس کی اتوار کو تصدیق ہوئی، اس میں ایک 19 سالہ نارویجن تارک وطن شامل ہے جو ایک سال سے بھی کم عرصہ قبل اسرائیلی فوج میں بھرتی ہونے کے لئےناروے سے اسرائیل ہجرت کر گیا تھا اور ابھی تک تربیت حاصل کر رہا تھا۔

گزشتہ دو ہفتوں میں چار دیگر اسرائیلی فوجیوں نے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کیا، جن میں گولانی بریگیڈ کا ایک سپاہی شامل تھا جس نےسدی تیمان نامی فوجی اڈے پر خود کو گولی مار لی۔ ایک اور اہلکار ریزروسٹ ڈینیئل ایڈری نے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کی تشخیص کے بعد خود سوزی کرلی۔خود کشی کے زیادہ تر معاملات میں ایکٹیو ڈیوٹی ریزروسٹ شامل ہیں اور فوجی حکام کے مطابق فوجی اہلکاروں کی خود کشی کی وجوہات واضح طور پر ذاتی یا خاندانی حالات کے بجائے فوجی کارروائیوں سے متعلقہ صدمے کو قرار دیتے ہیں۔

اسرائیلی مسلح افواج نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے ہزاروں ریزروسٹ جنگ کی ڈیوٹی سے دستبردار ہو چکے ہیں۔ سروس سے متعلق ذہنی صحت کے مسائل کی وجہ سے خودکشیوں کی حقیقی تعداداس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے ۔اسرائیلی اخبار ہارٹز نے کم از کم 12 سابق فوجیوں کی خود کشی کی اطلاع دی جن کا حالیہ برسوں میں فوج کے سرکاری اعدادوشمار میں کوئی ذکر نہیں تھا۔رپورٹ کے مطابق غزہ میں جاری جنگ نے اسرائیلی افواج پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔جنگ کے آغاز سے اب تک 893 اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں۔