مودی کے روئیے سے ٹرمپ مشتعل، پاکستان امریکا کا پسندیدہ ملک بن گیا

ہفتہ 30 اگست 2025 15:49

مودی کے روئیے سے ٹرمپ مشتعل، پاکستان امریکا کا پسندیدہ ملک بن گیا
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 اگست2025ء)پاک بھارت جنگ بندی پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ردعمل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسا مشتعل کیا کہ امریکی حکومت کی نظر میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان پسندیدہ ملک کا درجہ اختیار کرگیا۔امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں بھارت کئی لحاظ سے ٹرمپ انتظامیہ کی قربت میں رہا۔

فوجی حکمت عملی بنانے والے بھی انڈو پیسیفک علاقے میں بھارت کو خصوصا چین کیخلاف چوکیدار قرار دیتے رہے جبکہ نائن الیون کے واقعہ کے بعد سے پاکستان کا خاطر خواہ امیج نہیں تھا۔امریکی اخبار کے مطابق کانگریس سے پہلے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی ستائش سے صورتحال بدلنا شروع ہوئی اور واشنگٹن میں پاکستان کی وکالت کرنیوالے نئے چہرے سامنے آنے لگے۔

(جاری ہے)

اخبار کے مطابق پہلگام واقعیکا الزام لگاکر بھارتی وزیراعظم نے پاکستان پر حملہ کیا تو وہ بھارتی فوج کی برتری دکھانیکا ارادہ کیے ہوئے تھے تاہم پاکستان کی جانب سے بھارت کے کئی طیارے مار گرائے جانے کے سبب اس کے بڑی حد تک منفی اثرات سامنے آئے۔رپورٹ کے مطابق پاک بھارت جنگ بندی میں صدر ٹرمپ نیکردار ادا کیا اور دونوں ملکوں پر زور دیا کہ کشیدگی ختم کریں۔

پاکستان نے بات مان لی، ڈونلڈ ٹرمپ کی ستائش کی اور انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد بھی کردیا۔ اسطرح ٹرمپ کو عظمت ملی جبکہ بھارت نے اس بات کی ہی تردید کردی کہ امن قائم کرنے میں صدر ٹرمپ نے کوئی کردار ادا کیا تھا۔اخبار نے لکھا کہ پاک بھارت تنازعہ کے بعد نریندر مودی کا دورہ واشنگٹن بھی ممکن نہ ہوسکا جبکہ صدر ٹرمپ نے پاکستانی فوج کے سب سے طاقتور شخص فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وائٹ ہاس میں لنچ پر میزبانی کی۔

اخبار کے مطابق اکثرہنگامہ خیزی کا شکار خطے میں آرمی چیف عاصم منیر کا احترام ایک ایسے شخص کے طور پرکیا جاتا ہے جو مشکل حالات میں بھی انتہائی پرسکون اور باصلاحیت رہتے ہیں۔اخبار نے لکھا کہ اسٹریٹیجک آوٹ لک میں جنرل عاصم منیر کی مستقل مزاجی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو متاثر کیا اور صدر ٹرمپ کا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے تعلق بڑھا اور ایک ماہ بعد ہی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ انتہائی غیرمعمولی اقتصادی سمجھوتے کرنے کااعلان کردیا جبکہ روس سے تیل خریدنے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر کہیں زیادہ ٹیرف عائد کردیا۔

اخبار کے مطابق یہ سوال اب بھی قائم ہے کہ پاک امریکا تعلقات کتنے پائیدار ہیں کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ تو شاید اسلام آباد کو پسندیدگی سے دیکھ رہی ہے مگر یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن میں اس بات پر ادارہ جاتی اتفاق رائے ہے یا نہیں۔اخبار کے مطابق مودی پاکستان سے بدلہ لینیکیلیے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھ سکتیہیں، پانی کو ہتھیار کے طورپر استعمال کرنے کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بی جے پی کو بہار کے الیکشن میں کڑے امتحان کا سامنا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بلوچستان لبریشن آرمی کو دہشتگرد قرار دیا جانا مودی کو وارننگ ہیکہ وہ پاکستان میں مداخلت سے باز رہے۔ اخبار نے لکھاکہ اس صورتحال میں یہ دیکھنا بھی باقی ہیکہ آیا نریندر مودی دنیا کے طاقتور ترین شخص سے جھگڑا مول لیتے ہیں یا نہیں اخبار کے مطابق کم یاب معدنی ذخائر یا آئل اینڈ گیس سیکٹر میں پاک امریکا تجارتی تعلقات وسیع ہوتے ہیں تو بھارت کے مقابلے میں پاک امریکا تجارت کا حجم تبدیل ہوسکتا ہے، اخبار کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاس کی توجہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب ہے اور اب یہ اہم ہوگا کہ پاکستان اپنے معاشی اور فوجی پتے کیسے کھیلتا ہے تاکہ ٹرمپ پاکستان سے خوش رہیں۔