اسرائیلی فوجیوں میں خود کشی کے رجحان میں اضافہ ،5 نے اپنی جانیں لے لیں

غزہ میں جاری جنگ نے اسرائیلی افواج پر شدید دبا ڈالا ،اب تک 893اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ،رپورٹ

پیر 21 جولائی 2025 21:33

تل ابیب(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 جولائی2025ء)غزہ میں مظالم کی انتہا کردینے والے اسرائیلی فوجیوں میں خود کشی کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے اور گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کم از کم 5 اسرائیلی فوجیوں نے اپنی جانیں لے لی ہیں، جن میں غزہ اور دیگر فعال تنازعات والے علاقوں میں جنگجوں کی توسیع کے بعد حال ہی میں فارغ کیے گئے فوجی اور ریزروسٹ شامل ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 7اکتوبر 2023کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی مسلح افواج کی صفوں میں خودکشیوں میں اضافہ ہوا ہے۔2023کے آخر تک سات فوجیوں نے خودکشی کی، جس کے بعد 2024کے دوران ایسے 21واقعات کی تصدیق ہوئی اور اس سال کے آغاز سے کم از کم ایسے 20واقعات ہو چکے ہیں۔تازہ ترین کیس، جس کی گزشتہ روز تصدیق ہوئی، اس میں ایک 19سالہ نارویجن تارک وطن شامل ہے جو ایک سال سے بھی کم عرصہ قبل اسرائیلی فوج میں بھرتی ہونے کے لئے ناروے سے اسرائیل ہجرت کر گیا تھا اور ابھی تک تربیت حاصل کر رہا تھا۔

(جاری ہے)

گزشتہ دو ہفتوں میں چار دیگر اسرائیلی فوجیوں نے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کیا، جن میں گولانی بریگیڈ کا ایک سپاہی شامل تھا جس نے سدی تیمان نامی فوجی اڈے پر خود کو گولی مار لی۔ایک اور اہلکار ریزروسٹ ڈینیئل ایڈری نے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کی تشخیص کے بعد خود سوزی کرلی۔خود کشی کے زیادہ تر معاملات میں ایکٹیو ڈیوٹی ریزروسٹ شامل ہیں ۔

فوجی حکام کے مطابق فوجی اہلکاروں کی خود کشی کی وجوہات واضح طور پر ذاتی یا خاندانی حالات کے بجائے فوجی کارروائیوں سے متعلقہ صدمے کو قرار دیتے ہیں۔اسرائیلی مسلح افواج نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ نفسیاتی دبا کی وجہ سے ہزاروں ریزروسٹ جنگ کی ڈیوٹی سے دستبردار ہو چکے ہیں۔اسرائیلی اخبار نے کم از کم 12سابق فوجیوں کی خود کشی کی اطلاع دی جن کا حالیہ برسوں میں فوج کے سرکاری اعدادوشمار میں کوئی ذکر نہیں تھا۔رپورٹ کے مطابق غزہ میں جاری جنگ نے اسرائیلی افواج پر شدید دبا ڈالا ہے۔جنگ کے آغاز سے اب تک 893 اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں۔