m ملاوٹ کی روک تھام کے بغیر بیماریوں کا خاتمہ ممکن نہیں

۷ کینسریرقان ٹی بی معدے کے امراض کڈنی دل کے امراض تھلیسیماپولیو سمیت موذی امراض کے عالمی یوم منائے جاتے ہیں aعالمی یوم کا پرچارپرنٹ اور الیکٹرونک میڈیااور سمینار پر عوام میں شعور بیدار کرنے کیلئے کیا جاتا ہے تاکہ عوام ان بیماریوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں،رنثار احمد خان یوسف زائی

اتوار 10 اگست 2025 18:00

)پنڈی بھٹیاں (آن لائن ) جماعت اسلامی کے ممتاز ضلعی راہنما ء الخدمت فاونڈ یشن کے صدرنثار احمد خان یوسف زائی نے کہا ہے انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ملاوٹ کی روک تھام کے بغیر بیماریوں کا خاتمہ ممکن نہیں کینسریرقان ٹی بی معدے کے امراض کڈنی دل کے امراض تھلیسیماپولیو سمیت موذی امراض کے عالمی یوم منائے جاتے ہیں عالمی یوم کا پرچارپرنٹ اور الیکٹرونک میڈیااور سمینار پر عوام میں شعور بیدار کرنے کیلئے کیا جاتا ہے تاکہ عوام ان بیماریوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں دوسری ہسپتالوں اور ڈاکٹروں حکیموں عطائیوں دم کرنے والوں کے پاس علاج کرواتے مریضوں کارش دیکھ کر محب وطن شہری سوال کرتا ہے پون صدی میں پاکستان ان امراض سے نجات نہیں پا سکا آبادی کے ساتھ ساتھ مریضوں کی تعداد میں اضافہ کسی تشویش سے کم نہیں ہے اس حقیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ان امراض کی اصل جڑ اشیاء خوردونوش میں ملاوٹ ہے جب انسانوں کو ملاوٹ زدہ اشیاء کھانے کو ملیں آپ ان امراض پرقابو پانے کے ہزار جتن کر لیں ان امراض سے چھٹکارہ پانا ممکن نہیں فوڈ اتھارتی کا قیام سالوں سے ہے چھاپے جرمانے دوکانیں ورکشاپ سیل کرنے اور ایف آئی آر درج کروانے کا سلسلہ بھی جاری ہے مگر ملاوٹ مافیا بے لگام کیوں ملاوٹ مافیا انسانوں کا قاتل اور ان موذی امراض کو پھیلانے کا ذمہ دار ہے دودھ دہی مصالحہ جات مشروبات میں ملاوٹ گندے پانی کی سبزیاں ہلال حرام جانوروں اور مرغیوں کی چربی اور گند سے تیار وائٹ آئل کا استعمال سے امراض کو فروغ مل رہا ہے گندگی کے جگہ جگہ سٹال زائد معیاد مشروبات اور کھانے پینے کی اشیاء آلودہ پانی ان امراض کو پھیلانے میں سونا پر سہاگہ کا کام کر رہا ہے اور ملاوٹ مافیا ملاوٹ کے اپنے لئے چاندی بنانے اور انسانوں کوموت کے منہ میں دھکیل میں مصروف ہے کیوں ملاوٹ مافیا کو نکیل نہیں ڈالی جا سکی ملاوٹ مافیا کے نزدیک فوڈ اتھارٹی کے جرمانے فوڈ کو ضائع کرنا ایف آئی آر کا اندراج کی سزا کی کوئی اہمیت نہیں ملاوٹ سے راتوں رات اسقدرآمدن ہو جاتی ہے اتنی سزا ان کے نزدیک کو ئی اہمیت نہیں رکھتی چند سال قبل دودھ پیدا کرنے والے ایرایا میں ایک پولیس آفیسر نے چھاپہ مار کر آٹھ دودھ کی گاڑیاں کیمیکل سے تیار کردہ دودھ اور بمعہ کیمیکل سمیت فیکٹری کا سامان قبضہ میں لیکر تھانہ میں ملزم کو بند کر دیا اور اپنا فون بند کر دیا یہ ہزاروں لیٹر کیمیکل والا دودھ ایک معروف فیکٹر ی کو بھیجا جا رہا تھا اس جرات مند پویس آٖفیسر نے میڈیا سے کہا میں ایک انسان کے قاتل کو ریلیف دے سکستا ہوں مگر ہزاروں انسانوں کے قاتل کو نہیں چھوڑوں گا جو ہماری مستقبل کو تباہ کر رہے ہیں اور اس نے سچ کر دیکھایا اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکستا ملاوٹ مافیا کو نکیل اسی صورت میں ڈالی جا سکتی ہے ان کی جائیدادیں فیکٹریوں وہیکل کو ضببط کر کے ذمہ ذمہ داروں کو سر عام پھانسی کے پھندے پر لٹکانے کی سزائیں مقرر کی جائیں کو کی عبرت کا باعث ہوںگی اسی صورت میںعوام کو صحت مند خوراک مل سکے گی اور ان موذی امراض کا بھی بتدریج خاتمہ ممکن ہو گا حکومت وقت کو ملاوٹ مافیا کو نکیل پانے کیلئے فوری اقدامات کرنا چاہیے تاکہ ملک انسانوں کے قاتلوں سے نجات پا سکے حکومت کا یہ بہت بڑاجہاد ہو گا