گورنر اسٹیٹ بینک کا ڈیجیٹل لحاظ سے بااختیار اور شمولیتی معیشت کے لیے ادائیگیوں کے جدید اور مستحکم انفراسٹرکچر پرزم پلس کا افتتاح کردیا

منگل 19 اگست 2025 22:50

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 اگست2025ء) گورنر اسٹیٹ بینک نے ڈجیٹل لحاظ سے بااختیار اور شمولیتی معیشت کے لیے ادائیگیوں کے جدید اور مستحکم انفراسٹرکچر پرزم پلس کا افتتاح کردیابینک دولتِ پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے بر وقت بین البینک چکتائی کے نئے میکنزم (پرزم پلس سسٹم)کا باقاعدہ افتتاح کردیا، جو ملک کے فنانشیل مارکیٹ انفراسٹرکچرکو جدید بنانے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

کراچی میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس (نباف پاکستان)میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں بینکوں ، مائکرو فنانس اداروں ، پیمنٹ سسٹم آپریٹرز ، پیمنٹ سروس پرووائیڈرز کے سی ای اوز ، اسٹیٹ بینک کے سینئر عہدیداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں (اسٹیک ہولڈرز)نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ پرزم پلس اسٹیٹ بینک کے وژن 2028 کے تحت ڈجیٹل مالی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے عزم کا عکاس ہے۔

(جاری ہے)

پرزم پلس نے پاکستان کو ان چند ممالک میں شامل کردیا ہے، جنہوں نے خردہ اور بڑی مالیت کی ادائیگی دونوں نظاموں کے لیے ISO 20022 جیسا پیغام رسانی کا عالمی معیار اپنایا ہے۔پرزم پلس کو جدید ترین معیار پر بنایا گیا ہے جس سے اس کی فعالیت بہتر ہوئی ہے اور اس میں ساختیاتی مالی پیغام رسانی(structured financial messaging) ، بہتر تعامل (انٹرآپریبلٹی)، اور مزید شفافیت جیسی خصوصیات شامل ہوئی ہیں۔

اس میں سیالیت کے بروقت انتظام کے آلات (ریئل ٹائم لیکویڈیٹی مینجمنٹ ٹولز)، ٹرانزیکشن کی قطار اور ترجیح سازی، اگلی تاریخ پر ادائیگی، اور نیلامی، ریپوز، اور زری سرگرمیوں (مانیٹری آپریشنز)کے لیے سینٹرل سیکیورٹیز ڈپازٹری کے ساتھ بلا رکاوٹ انضمام جیسی جدید خصوصیات بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک نے مالی منڈیوں میں بڑی مالیت کی ادائیگیوں کے نظام کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پرزم نے مالی سال 24 میں 1043 ٹریلین روپے سے زائد کی ٹرانزیکشنز پراسس کیں، جو پاکستان کی جی ڈی پی کے دس گنا کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرزم پلس سے مالی منڈی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس کی استعداد اور کارکردگی بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے ڈجیٹل چینلز کے بڑھتے ہوئے استعمال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پاکستان کی وسیع تر ڈجیٹل تبدیلی کو اجاگر کیا ۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اب بینک اکاونٹس اور ڈجیٹل والٹ اکاونٹس کی تعداد 225 ملین سے تجاوز کرچکی ہے، جن میں 96 ملین انفرادی صارفین ہیں۔ بینکنگ ایپس کے رجسٹرڈ صارفین 28 ملین، برانچ لیس بینکاری صارفین71 ملین ، اور انٹرنیٹ بینکاری صارفین 17 ملین ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین کی ترجیحات کا رخ اب ڈجیٹل مالی خدمات کی جانب ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ادائیگی کے نظام کی حفاظت اور مضبوطی پر اسٹیٹ بینک مکمل توجہ دے رہا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے ڈجیٹل انفراسٹرکچر کو توسیع دیتے ہوئے، اسٹیٹ بینک نے مالی نظام پر اعتماد اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سخت سائبر سیکیورٹی، اینٹی منی لانڈرنگ ، فراڈ مینجمنٹ اور انضباطی طریقہ کار کو لازمی قرار دیا ہے۔

گورنر نے مالی شمولیت اور انفراسٹرکچر منصوبے کے تحت عالمی بینک گروپ کی تکنیکی اور مالی معاونت کا اعتراف کیا، اور منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والے کلیدی ماہرین اور اسٹیٹ بینک کی ٹیموں کو سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں، کنسلٹنٹس، اور ٹیکنالوجی پارٹنرز وغیرہ سمیت اسٹیک ہولڈرز کے درمیان قریبی تعاون اور اشتراک کے بغیر ممکن نہ تھی۔

اپنے اختتامی کلمات میں گورنر اسٹیٹ بینک نے پرزم پلس کو ایک اسٹریٹجک اثاثہ قرار دیا، جو پاکستان کے نظامِ ادائیگی کو مستقبل کے تقاضے پورے کرنے، جدت طرازی میں معاون اور مالی استحکام کو بڑھانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔ اسٹیٹ بینک مالی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل لحاظ سے بااختیار اور شمولیتی معیشت کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے۔