ں* جبری تبدیلی مذہب کے مسئلے پر تاحال انکار کی حالت میں جی رہے ہیں،فرحت اللہ بابر

فرحت اللہ بابر کا پاکستان میں اقلیتی حقوق کے مسائل پر تشویش، حکومت سے تحقیقات اور اصلاحات کا مطالبہ

منگل 19 اگست 2025 22:50

ج*اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 اگست2025ء)سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (HRCP) کی حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کروائی ہے، جو مذہبی آزادی اور عقیدے کی آزادی کی حالت پر مبنی ہے۔ یہ رپورٹ گزشتہ سال کے دوران پاکستان میں مذہبی آزادیوں اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ایک نہایت تشویشناک تصویر پیش کرتی ہے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو نشانہ بنا کر قتل کرنا، ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کرنا، پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدالت دو افراد کا قتل، جنہوں نے مشتعل ہجوم سے تحفظ کے لیے پولیس سے رجوع کیا تھا اور اقلیتوں کے خلاف ہجوم کے تشدد میں اضافہ ریاست اور معاشرے کے لیے ایک وارننگ ہے۔

(جاری ہے)

قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اصلاحات، احتساب کے نظام اور برداشت و مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے شعور اجاگر کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم جبری تبدیلی مذہب کے مسئلے پر تاحال انکار کی حالت میں جی رہے ہیں۔ جبری تبدیلی مذہب کی ایک بڑی وجہ کم عمری کی شادیوں کو روکنے کے لیے قانون سازی کی عدم موجودگی اور جہاں قانون سازی ہوئی ہے، وہاں اس پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔ چیئرمین HRCP نے کہا کہ این جی اوز پر پابندیاں اور سول سوسائٹی کے لیے سکڑتی ہوئی جگہ نے انتہا پسندوں کو جاری کر دیا ہے اور ملک میں نفرت انگیز تقاریر کو فروغ دیا ہے۔

جہاں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور غیر آئینی 'ہائبرڈ نظام' کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے دباتے ہیں، وہیں نفرت انگیز تقاریر پروان چڑھ رہی ہیں اور انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ایف آئی اے شہریوں کے خلاف پی ای سی اے (PECA) قانون کے تحت مقدمات سے متعلق چھ ماہ کی لازمی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش نہیں کرتی۔

انہوں نے پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ ایف آئی اے سے یہ رپورٹس طلب کی جائیں تاکہ ان پر پارلیمنٹ میں بحث ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ ان مقدمات کے گرد چھپی ہوئی رازداری نے قانون کے غلط استعمال کے خلاف بے حسابی (impunity) کی ثقافت کو فروغ دیا ہے، جبکہ خود قانون نافذ کرنے والے ادارے اس قانون کی خامیوں کو استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے رپورٹ میں ان الزامات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ سینکڑوں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ریاستی اداروں کی ملی بھگت سے توہینِ مذہب اور بھتہ خوری جیسے جھوٹے الزامات میں پھنسا دیا جاتا ہے۔

انہوں نے ان الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور اس کی چیئرپرسن محترمہ رابعہ جاوید کی اس رپورٹ پر خراج تحسین پیش کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اقلیتوں کے لیے ایک بااختیار قانونی کمیشن کے قیام سے متعلق قانون سازی حال ہی میں دونوں ایوانوں سے منظور ہوئی، لیکن اس کے بعد اس پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

انہوں نے قانون و پارلیمانی امور ڈویڑن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو دیکھے اور اس قانون کے نفاذ کے عمل کو تیز کرے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے لیے ایک بااختیار کمیشن کا قیام سپریم کورٹ کے جسٹس تصدق جیلانی کے جون 2014 کے تاریخی فیصلے کا مرکزی نکتہ تھا، جس پر عملدرآمد تاحال باقی ہی