Live Updates

سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، علی امین

سیلاب کے خطرات سے مستقل طور پر دوچار آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہے ہیں جن بچوں کے والدین اس قدرتی آفت میں وفات پا گئے ہیں ، ان بچوں کے تمام تر اخراجات خیبر پختونخوا حکومت اٹھائے گی پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہوگی تو خیبر پختونخوا حکومت حاضر ہے۔وزیراعلی خیبرپختونخواعلی آمین گنڈاپور

جمعرات 28 اگست 2025 19:50

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اگست2025ء)وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات کے حوالے سے ویڈیو بیان جاری کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے حالیہ سیلاب کے نقصانات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 15 اگست سے خیبرپختونخوا میں کلائوڈ برسٹ اور سیلابی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جس سے ضلع بونیر، سوات، شانگلہ، باجوڑ، مانسہرہ اور صوابی بری طرح متاثر ہوئے۔

کلائوڈ برسٹ اور بارشوں کی وجہ سے مختلف حادثات کے نتیجے میں مجموعی طورپر 406 افرادجاں بحق ہوئے اور 245نافراد زخمی ہوئے۔ان حادثات سے 664 گھروں کو مکمل اور2431 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ مختلف مقامات پر 511 سڑکوں، 77پلوں اور ن2123 دکانوں کو نقصان پہنچا۔

(جاری ہے)

علی امین گنڈاپور نے حکومتی ریسپانسنکا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ15 اگست کی صبح باجوڑ میں کلائوڈ برسٹ کی اطلاع ملتے ہی انہوں نے فوری طور پر متعلقہ محکموں، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیواداروں کو متحرک کر دیا۔

ریسکیو ٹیموں سمیت ضلعی انتظامیہ کے لوگ موقع پر پہنچے جس کے بعد دیگر اضلاع میں بھی اسی طرح کا فوری ریسپانس دیا گیا۔ریسکیو اداروں، متعلقہ محکموں اور ضلعی انتظامیہ کے بروقت ریسپانس کے نتیجے میں5566 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔بغیر کسی تاخیر کے تمام سرکاری مشینری ، طبی عملے اورامدادی ٹیموں سب کو متاثرہ علاقوں تک پہنچا دیا گیا اور ریسکیو سرگرمیوںکے بعد ریلیف کا کام شروع کر دیا گیا۔

مختلف متاثرہ علاقوں میں 176 گاڑیاں اور کشتیاں بھیجی گئیں اور2061 ریسکیو اہکار تعینات کئے گئے۔ ریلیف اور بحالی کے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اب تک متاثرہ علاقوں کی 136رابطہ سڑکوں اور65 پلوں کو بحال کیا گیاہے۔ایک لاکھ 19 ہزار افراد کو پکاپکایا کھانافراہم کیا گیااور یہ عمل اب بھی جاری ہے۔ متاثرہ علاقوں میں اب تک 125 ٹرکوں پر مشتمل امدادی اشیاء پہنچائی گئی ہیں۔

ان علاقوں میں 70 میڈیکل کیمپس قائم کئے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ متاثرین کو فوری ریلیف کی فراہمی کے بعد ان کو جانی و مالی نقصانات کے معاوضوں کی ادائیگی پر کام شروع کیا گیا ہے۔صوبائی حکومت نے اموات کے معاوضوں کو 10 لاکھ فی کس سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے، زخمیوں کا معاوضہ ڈھائینلاکھ روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے ، مکمل منہدم گھروں کا معاوضہ 4 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے، جزوی طور پر متاثرہ گھروں کانمعاوضہ ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر تین لاکھ کر دیا ہے۔

علاوہ ازیں پہلی دفعہ تباہ شدہ دکانوں کے مالکان کیلئے بھی پانچ لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا جبکہ جن دوکانوں میں سیلابی ریلہ داخل ہوا تھانان کی صفائی کیلئے ایک لاکھ روپے مقرر کیا گیا۔ اسی طرح صوبے میں فصلوں، باغات اور مال مویشیوں کے نقصانات کیلئے بھی معاوضے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 350 جاں بحق افراد کے لواحقین کو مجموعی طور پر 654 ملین روپے کی رقم ادا کی گئی ہے۔

صرف وہ ادائیگیاں ابھی باقی ہیں جن کے لواحقین کمسن بچے ہیں یا ان کا ابھی تک پتہ نہیں چلا۔ ایسے کمسن بچوں کو معاوضوں کی ادائیگی کیلئے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے ہاں اکاونٹس کھولے جارہے ہیں۔اب تک 18 زخمیوں کو پانچ لاکھ روپے فی کس کے حساب سے ایک کروڑ 95 لاکھ روپے ادا کئے گئے ہیں۔ باقی زخمیوں کی تصدیق کاعمل جاری ہے۔اسی طرحن4432 افراد کو فوڈ اسٹیمپ کی مد میں فی کس 15 ہزار روپے کے حساب سے 6 کروڑ 65 لاکھ روپے ادا کئے گئے ہیں۔

دوکانوں کے معاوضے کی مد میں 2 کروڑ 80 لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی ہے جبکہ مزید ایک ارب روپے کی ادائیگی کی جائے گی۔گھروں کے معاوضے کی مد میں اب تک 7 کروڑ 90 لاکھ روپے ادا کئے گئے ہیں۔ مزید 1.3 ارب روپے ادا کئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی صاف ، شفاف اور آسان بنانے کیلئے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم رائج کیا گیا ہے جبکہ متاثرین کو ہر قسم کے معاوضوں کی ادائیگی کیلئے متعلقہ حکام کو آنے والے اتوار تک کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے، تب تک تمام متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی مکمل ہو جائے گی۔

وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ متاثرین کو بروقت ریلیف کی فراہمی اور بحالی کے کاموں کی موثر نگرانی کیلئے ہزارہ ڈویژن اور ملاکنڈ ڈویژن میں سیکرٹری لیول کے دو افسران کو خصوصی ذمہ داریاں دی گئی ہیں، جبکہ بحالی اور ریلیف کے کاموں کو تیز کرنے کیلئے ضلعی انتظامیہ کی سطح پر اضافی افسران اور اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ ان علاقوں میں اضافی طبی عملے اور موبائل میڈیکل یونٹس بھی تعینات کئے گئے ہیں جبکہ مراکز صحت میں ضروری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ صوبائی حکومت نے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے کابینہ ممبران، ممبران اسمبلی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان عطیات کی رقم کو حقداروں تک پہنچانے اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے پی ڈی ایم اے میں خصوصی اکاونٹ کھولا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت اب تک معاوضوں کی ادائیگی ، ریلیف اور بحالی کے کاموں کیلئے محکمہ ریلیف کو 6.5 ارب روپینجاری کر چکی ہے جبکہ مزید 5 ارب روپے جلد جاری کئے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کیلئے کابینہ اراکین نے متاثرہ علاقوں کے دورے کئے جبکہ انہوں نے خود بھی بونیر، سوات اور صوابی کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے نقصانات اور امدادی کاموں کا جائزہ لیا۔"میں اور چیف سیکرٹری خود متاثرہ اضلاع میں ریلیف اور بحالی کے کاموں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور کوشش ہے کہ متاثرین کو کم سے کم ممکنہ وقت میں دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا کریں اور تباہ شدہ انفراسٹرکچرز کو جلد ازجلد بحال کرکے معمولات زندگی کو نارمل کریں"۔

انہوں کہا کہ وہ سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، جن کے گھر تباہ ہوئے انہیں گھر بنا کردیں گے اوراس کے علاوہ بھی جو نقصانات ہوئے ہیں ان کا سو فیصد ازالہ کریں گے۔ وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ان کی یہ بھی کوشش ہے کہ سیلاب کے خطرات سے مستقل طور پر دوچار آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں تاکہ انہیں آئندہ اس طرح کے حادثات سے بچایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ جن بچوں کے والدین اس قدرتی آفت میں وفات پا گئے ہیں ان بچوں کی ذمہ داری حکومت خیبر پختونخوا کی ہے کیونکہ حکومت ماںکی حیثیت رکھتی ہے ، ان بچوں کے تمام تر اخراجات خیبر پختونخوا حکومت اٹھائے گی۔وزیر اعلیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہوگی تو خیبر پختونخوا حکومت اس کے لیے حاضر ہے۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات