ہ*78 سالوں سے جاری پسماندہ رہنے والے صوبے کو مزید پسماندگی کے اندھیروں میں دھکیل دے گا

جمعرات 28 اگست 2025 21:30

nکوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 28 اگست2025ء) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر (ر)امان اللہ کنرانی نے وفاق کی جانب سے آئین کے 18 ویں ترمیم میں مداخلت سمیت 7 ویں NFC ایوارڈ مجریہ 2010 میں صوبوں کے نیشنل کیک سے قابل تقسیم وسائل کو گھٹائے جانے کے ارادوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کا حصہ بڑھایا جارہا ہے باقی صوبے اپنی آبادی کے تناظر میں اپنا حصہ وصول کرتے رہیں گے جبکہ ریونیو اور آبادی کی بنیاد پر پہلے ہی بہت کم رقم بلوچستان کو ملتی ہے جبکہ بلوچستان کی سب بڑی آمدنی کا انحصار ذریعہ گیس کی آمدن ہے جو ایک دفعہ وفاق میں جاکر قابل تقسیم فارمولے میں ضم ھوکر نیشنل کیک کا حصہ بنتا ہے پھر صوبے کو آبادی اور ریوینو کے تناسب رقم فراہم کی جاتی ہے جو اس وقت 9% اور 5% ہے جس سے بلوچستان کی طویل جغرافیائی اہمیت و Strategic پس منظر میں اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے جبکہ گیس کی پیداواری صلاحیت بلوچستان میں پہلے 35 % اب شاید کم ہوکر 28% رہ گئی ہے تاہم NFC کے فارمولے میں بلوچستان کو گیس کی 1952 میں برآمدگی پیداوار شروع کرنے سے 2010 NFC پر اتفاق رائے تک بقایا جات کو اضافی مد میں صوبے کو 300 ارب ملتے رہے ہیں جبکہ اس رقم کے علاوہ بقایاجات کا ایک حصہ وفاق کے پاس Invest بھی کیا جاتا ہے جس کا منافع صوبے کو ملتا رہتا ہے اگر 7 ویں NFCایوارڈ مجریہ 2010 میں صوبے کے حصے کے اندر کمی کی گئی تو خدشہ ہے بقایاجات کی مد میں صوبے کو دیا جانے والا رقم نہ ملنے سے موجودہ بجٹ متاثر ہے جبکہ حکومت بلوچستان 2025-26 کی بجٹ اسمبلی سے منظور کرواکر اس پر عملدرآمد شروع کرچکی ہے ایسے موقع پر صوبے کے وسائل کی ادائیگی میں رخنہ اندازی گذشتہ 78 سالوں سے جاری پسماندہ رہنے والے صوبے کو مزید پسماندگی کے اندھیروں میں دھکیل دے گا اس سے قطع نظر صوبے کے قدرتی و وسائل کے استعمال سے متعلق آئین کے آرٹیکل 172 کے آئین کے 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کا 50% حق تسلیم کیا گیا ہے مگر 15 سال گزرنے کے باوجود نہ اس کے قواعد ضوابط بن سکے نہ اس تناسب سے صوبوں کو حصہ مل سکا اسی طرح کینیڈا،امریکہ و لیبیا و بروناء سمیت بعض افریقی ممالک میں معدنی وسائل و ساحل پر مقامی و صوبوں کا حق بین الاقوامی اصول کے تحت حق تسلیم کیا جاتا ہے مگر اب تک اسی لاینحل مسئلے کا حل نکالے بغیر میسر وسائل کو بھی کم کرنا صوبے کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب کرے گا