ملک بھر میں جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت، انسولین سمیت 79 اہم ادویات غائب

یہ بحران لاکھوں مریضوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن گیا ہے،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا انتباہ

جمعہ 29 اگست 2025 16:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 اگست2025ء)ملک بھر میں جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت ہوگئی، انسولین سمیت 79 اہم ادویات دستیاب نہیں جبکہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ یہ بحران لاکھوں مریضوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم ای) نے ملک بھر میں جان بچانے والی اور ضروری ادویات کی غیر معمولی اور شدید قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ بحران لاکھوں مریضوں کی زندگیوں کیلئے خطرہ بن گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق کم از کم 80 اہم ادویات دستیاب نہیں ہیں، جن میں سے 25 کی کوئی متبادل دوا بھی موجود نہیں، ان میں ذیابیطس، کینسر، الزائمر، پارکنسن، امراضِ قلب اور نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی جان بچانے والی ادویات شامل ہیں۔

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا کہ ہم حکومت سے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ اس تباہ کن صورتحال پر قابو پایا جا سکے، ادویات کی قلت کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ دائمی اور سنگین بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے جان لیوا خطرہ ہے۔

ایسوسی ایشن نے کہا کہ مریض شدید پیچیدگیوں کا شکار ہیں اور ان کی صحت تیزی سے خراب ہو رہی ہے،مثال کے طور پر، طویل اثر رکھنے والی انسولین کے انجیکشن کی عدم دستیابی ذیابیطس کے مریضوں میں خون میں شوگر پر قابو نہ پانے کا باعث بن رہی ہے، جس سے گردوں کے فیل ہونے، بینائی کے نقصان اور اعضا کٹنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں، اسی طرح پیوند کاری کے مریض ایک اہم اینٹی فنگل دوا کی کمی کے باعث خطرناک فنگس انفیکشن کا شکار ہو رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ بحران ایک انسانی مسئلہ بھی ہے اور پاکستان کے عوام پہلے ہی سنگین مالی بحران اور شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ایک نئی اور حقیقت پسندانہ دوا کی قیمتوں کی پالیسی منظور کی جائے، جو پیداواری اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ادویات کی تیاری کو مالی طور پر ممکن بنا سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ ادویات کی قلت کی ایک بڑی وجہ بلیک مارکیٹ کا بے قابو کاروبار ہے، یہ غیر قانونی بازار ملک بھر میں پروان چڑھ رہے ہیں اور ضروری ادویات کی قیمتوں میں بار بار اضافے کا باعث بن رہے ہیں،مثال کے طور پر انسولین کی ایک شیشی کی قیمت بلیک مارکیٹ میں تین گنا سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے، جو زیادہ تر خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہے، ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کیا جائے اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

ایسوسی ایشن نے کہا کہ حکومت ایک طاقتور ٹاسک فورس قائم کرے جس میں وزارتِ صحت، پی ایم اے اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے نمائندے شامل ہوں، یہ فورس درآمدات، لائسنسنگ اور پیداوار سے متعلق فوری فیصلے کرنے کے اختیارات رکھے تاکہ موجودہ قلت پر قابو پایا جا سکے۔مزید برآں پاکستان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جو محفوظ اور مؤثر ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کی ذمہ دار ہے لیکن اپنے بنیادی فرائض انجام دینے میں ناکام رہی ہے۔

ایسوسی ایشن نے کہا کہ اگرچہ ڈریپ اس بحران کو بین الاقوامی سپلائی چین کی رکاوٹوں سے جوڑ رہی ہے، لیکن یہ وضاحت ناکافی ہے اور گھریلو پالیسی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ ڈریپ کو اپنی بے عملی اور دوراندیشی کی کمی پر جواب دہ ٹھہرایا جائے اور زور دیا گیا کہ اتھارٹی کو مبہم یقین دہانیوں سے آگے بڑھ کر اس بحران سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں، جن میں ہنگامی بنیادوں پر درآمدات کی سہولت اور اپنے اقدامات کے بارے میں مکمل شفافیت شامل ہے۔