ایس ای سی پی کی کارپوریٹ ایکشن ٹائم لائنز میں نمایاں کمی کی منظوری

جمعہ 29 اگست 2025 16:40

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2025ء) سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی )نے کمپنیز (مزید اجراء شیئرز) ریگولیشنز 2020 میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت بونس اور رائٹ ایشوز کا وقت کم کر دیا گیا ہے تاکہ شیئر ہولڈرز کو زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔ ماضی میں بونس ایشو کو مکمل ہونے میں 85 دن اور رائٹ ایشو کو 181 دن لگتے تھے جس میں ابتدائی عمل سے لے کر شیئر ہولڈرز کے اکاؤنٹس میں حصص کے کریڈٹ ہونے تک کا پورا مرحلہ شامل تھا۔

نئے فریم ورک کے تحت بونس ایشو دورانیہ میں 87 فیصد کی نمایاں کمی کے ساتھ اب صرف 11 دن میں مکمل ہو گا جبکہ رائٹ ایشو ا ب وقت میں 70 فیصد کی کمی سے 53 دن میں مکمل ہو گا ۔ایس ای سی پی نے مارکیٹ اصلاحات کے لیے پہلے ایک مشاورتی مسودہ شائع کیا اور سٹیک ہولڈرز سے بہتری کے ممکنہ پہلوؤں پر آراء طلب کیں۔

(جاری ہے)

ایس ای سی پی نے پی ایس ایکس، سی ڈی سی، این سی سی پی ایل، کنسلٹنٹس، قانونی اور مالی ماہرین سمیت اہم سٹیک ہولڈرز سے آن لائن مشاورت کی۔

اس کے بعد ترامیم کا مسودہ جاری کیا گیا اور موصول ہونے والی تمام تجاویز کا جائزہ لے کر انہیں منظور کیا گیا۔ اہم تبدیلیوں میں بُک بند ہونےکے نوٹس کی کم مدت، ایک دن کا بُک کلوژر ، آفر دستاویزات کی جلد منظوری، لیٹر آف رائٹ کا فوری کریڈٹ اور رائٹ و بونس شیئرز کی تیز الاٹمنٹ شامل ہیں۔ کم وقت کا مطلب ہے کہ شیئر ہولڈرز کو بونس اور رائٹ شیئرز جلد مل سکیں گے جس سے وہ تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

یہ ترامیم یکم اکتوبر 2025 سے نافذ ہوں گی۔ ا س کے ساتھ ہی پی ایس ایکس اور سی ڈی سی کے قواعد بھی تبدیل ہو جائیں گے۔ مزید برآں سرمایہ کاروں کے لئے بہتر ماحول کی فراہمی اور پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس کو مزید پرکشش بنانے کے لئے ایس ای سی پی متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ایسے اقدامات پر غور کر رہا ہے جن سے ڈیویڈنڈ کی ادائیگی کا وقت بھی کم کیا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے مختلف بروکریج ہاؤسز میں اکاؤنٹ کھولنے اور ایک ہی شخص کے اکاؤنٹس کے درمیان فنڈز کی منتقلی سے متعلق مسائل کو بھی حل کیا جائے گا۔