Live Updates

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے اقوام متحدہ کے وفد کی ملاقات

خیبر پختونخوا حکومت اور اقوام متحدہ کے مابین سیلاب متاثرین کی بحالی میں باہمی تعاون اور اشتراک کار پر اتفاق معاوضوں کی ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم رائج کیا ہے، رواں ہفتے اتوار تک تمام ادائیگیاں مکمل ہو جائیں گی،علی امین

جمعہ 29 اگست 2025 20:00

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 اگست2025ء)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے اقوام متحدہ کے ایک وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ وفد کے اراکین میں یو این کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر برائے پاکستان محمد یحییٰ، یو این ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر آفس کی سربراہ افکے بوٹسمین اور یونائیٹڈ نیشنز آفس فار کوآرڈینیشن آف ہیومینیٹیرین افیئرز کے سربراہ کارلوس گیہا شامل تھے۔

ملاقات میں خیبر پختونخوا حکومت اور اقوام متحدہ کے مابین اشتراک کار، ترقیاتی منصوبوں اور باہمی دلچسپی کے اٴْمور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا حکومت اور اقوام متحدہ کے مابین اشتراک کار کو مزید وسعت دینے اور سیلاب متاثرین کی بحالی میں باہمی تعاون اور اشتراک کار پر اتفاق کیا گیا۔

(جاری ہے)

وفد نے وزیر اعلیٰ سے خیبر پختونخوا میں حالیہ سیلابوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

وزیر اعلیٰ نے وفد کو آگاہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے آٹھ اضلاع حالیہ سیلابوں اور بارشوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ، ان سیلابوں سے چار سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 240 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ اسی طرح سیلابوں سے 664 گھروں کو مکمل اور2431 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ مزید برآں سکولز، بنیادی مراکز صحت ، روڈز انفراسٹرکچرن اور پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ متاثرین کو فوری ریلیف کی فراہمی کے بعد جانی و مالی نقصانات کے معاوضوں کی ادائیگی پر کام شروع کیا گیا ہے، صوبائی حکومت نے اموات کے معاوضوں کو 10 لاکھ فی کس سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے، زخمیوں کا معاوضہ ڈھائینلاکھ روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کر دیا۔ اسی طرح مکمل منہدم گھروں کا معاوضہ 4 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے، جزوی طور پر متاثرہ گھروں کانمعاوضہ ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر تین لاکھ روپے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلی دفعہ تباہ شدہ دکانوں کے مالکان کیلئے پانچ لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا اور جن دوکانوں میں سیلابی ریلہ داخل ہوا تھانان کی صفائی کیلئے ایک لاکھ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں صوبائی حکومت نے فصلوں، باغات اور مال مویشیوں کے نقصانات کیلئے بھی معاوضے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ معاوضوں کی ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم رائج کیا ہے، رواں ہفتے اتوار تک تمام ادائیگیاں مکمل ہو جائیں گی۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایسے کمسن بچے جن کا کوئی نہیں بچا، ایسے بچوں کو معاوضوں کی ادائیگی کیلئے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے ہاں اکاؤنٹس کھولے جارہے ہیں۔ صوبائی حکومتن سیلاب متاثرین کی بحالی و ریلیف اور ادائیگیوں میں سو فیصد شفافیت کو یقینی بنا رہی ہے اور متاثرین کو بروقت ریلیف کی فراہمی اور بحالی کے کاموں کی موثر نگرانی کیلئے اضافی افرادی قوت فراہم کی گئی۔

وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں اضافی طبی عملے اور موبائل میڈیکل یونٹس بھی تعینات کئے گئے ہیں جبکہ مراکز صحت میں ضروری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ اسی طرح امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کیلئے کابینہ اراکین نے متاثرہ علاقوں کے دورے کئے جبکہ انہوں نے خود بھی بونیر، سواتناور صوابی کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے نقصانات اور امدادی کاموں کا جائزہ لیا۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ متاثرین کو کم سے کم ممکنہ وقت میں دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا کریں اور تباہ شدہ انفراسٹرکچرز کو جلد ازجلد بحال کرکے معمولات زندگی کو نارمل کریں۔ اب سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں روڈز انفراسٹرکچر ، آبنوشی انفراسٹرکچر اور متاثرہ بنیادی مراکز صحت کی بحالی کا مرحلہ شروع ہو رہا ہے، جن علاقوں میں پینے کے پانی کا نظام متاثر ہوا ہے وہاں پر واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے ہیں۔

اسی طرح وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کوشش ہے کہ سیلاب کے خطرات سے مستقل طور پر دوچار آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں تاکہ انہیں آئندہ اس طرح کے حادثات سے بچایا جاسکے۔ علی امین گنڈاپور نے مزید واضح کیا کہ فوری اور عارضی اقدامات کے علاوہ صوبائی حکومت مستقبل میں سیلابوں سے بچنے کے لیے مستقل منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے، ہم کلاوڈ برسٹ سے متاثرہ اضلاع میں پہاڑوں پر جال لگانے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں تاکہ سیلاب سے نقصانات کم سے کم ہوں، اس کے علاوہ فیزیبل مقامات پر مزید چھوٹے اور چیک ڈیمز تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں جبکہ آبی گزرگاہوں میں سیلاب سے آنے والا ملبہ اور ریت کو ہٹانے کے لیے علیحدہ سے منصوبہ شروع کر رہے ہیں۔

وفد نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں لوگوں کی بحالی کے لیے بھر پور تعاون فراہم کرے گی۔ وفد اراکین کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں سیلابوں سے ہونے والے نقصانات پر افسوس ہوا، اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے علاوہ دیگر پسماندہ اضلاع میں بھی تعاون فراہم کریں گے۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات