Live Updates

سابق وفاقی وزیر کا کرم تنگی ڈیم کی تکمیل پر زور، مستقبل میں سیلاب کے خدشات سے خبردار

جمعہ 29 اگست 2025 20:20

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2025ء) سابق وفاقی وزیر اور سینیٹر سلیم سیف اللہ خان نے کرم تنگی ڈیم کی فوری تکمیل پر زور دیتے ہوئے مستقبل میں سیلاب کے خدشات سے خبردار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں سابق وفاقی وزیر اور سینیٹر سلیم سیف اللہ خان نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کرم تنگی ڈیم کی فوری تکمیل کو اولین ترجیح دیں، بصورت دیگر خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع اہم آبی اور توانائی وسائل سے محروم رہ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ سو سال قبل برطانوی حکومت نے بھی اس ڈیم کی ضرورت پر زور دیا تھا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اگرچہ فیز ون مکمل ہو چکا ہے لیکن فیز ٹو فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث ابھی تک شروع نہیں ہو سکا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ فوری طور پر فنڈز جاری کرے اور منصوبے پر کام کا آغاز کرے۔

(جاری ہے)

سلیم سیف اللہ خان نے واضح کیا کہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد یہ ڈیم 84 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا اور ساڑھے تین لاکھ ایکڑ زرعی اراضی کو سیراب کرے گا جس سے جنوبی اضلاع کی زراعت میں انقلاب آئے گا۔

ان کے مطابق سنجیدہ عزم کے ساتھ یہ منصوبہ دو سے تین سال میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ حالیہ سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر یہ ڈیم پہلے مکمل ہو جاتے تو ہم تباہی سے بچ سکتے تھے اور قیمتی پانی کو آئندہ نسلوں کےلیے محفوظ بنا سکتے تھے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کرم تنگی کے ساتھ ساتھ گومل زام ڈیم اور خطے میں موجود دیگر چھوٹے اور درمیانے ڈیموں کی تکمیل پر بھی توجہ دی جائے۔

انہوں نے محکمہ موسمیات کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال اس سال کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ بارش متوقع ہے، لہٰذا حکومت کے لیے پیشگی منصوبہ بندی ناگزیر ہے، یہ وقت ہے کہ حکومت بروقت اقدامات کرے، ڈیمز تعمیر کر کے ہم پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں، سستی بجلی پیدا کر سکتے ہیں اور اپنی عوام کو سیلابی خطرات سے محفوظ بنا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ جنوبی خیبر پختونخوا میں پائیدار ترقی، زرعی خوشحالی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت پیدا کرے۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات